بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا نفاذ، جنگی مستقبل کیا ہوگا؟

اہل خانہ میں خوشی کا غیرمعمولی ماحول ہے

دبئی،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ تقریباً ساڑھے 15 ماہ کی اس تباہ کن جنگ کے بعد جنگ بندی ہونے پر ہر طرف خوشی کا اظہار ہے۔ عالمی برادری بھی اور بین الاقوامی قیادتیں نہ صرف اس کی پذیرائی کر رہی ہیں بلکہ بعض سطحوں پر اس کا کریڈٹ لینے میں بھی مسابقت کا ماحول ہے۔لیکن اسرائیل میں معاملہ تقسیم کا شکار ہے۔ عوامی سطح پر اور اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی ہونے کی امید پر ان کے اہل خانہ میں خوشی کا غیرمعمولی ماحول ہے جبکہ نیتن یاہو حکومت کی بیدلی اور نیتن یاہو کے انتہا پسند اتحادیوں کی سخت مایوسی و پریشانی نے اسرائیل کو جنگی اور سیاسی اعتبار سے ہی نہیں سماجی اعتبار سے بھی مزید تقسیم کر دیا ہے۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ بظاہر تین مراحل پر مبنی ہے۔ لیکن عملدرآمد میں جس طرح تدریج کا پہلو پیش نظر رکھا گیا ہے، اس سے عملی طور پر اس معاہدے کے کئی مراحل میں بٹ جانے کا امکان بھی موجود ہے۔معاہدے کی کامیابی اور جنگی خاتمے کا بظاہر امکان دونوں فریقین پر ہے۔ لیکن عملدرآمد کی شروعات سے پہلے ہی جس طرح کا ماحول اسرائیل میں شدت اختیار کیے ہوئے ہے اس سے نہیں لگتا کہ جنگ بندی کو قائم رکھنے کی مخالف قوتیں آئندہ آنے والے وقتوں میں ناکام رہیں گی۔جیسا کہ قیدیوں کی رہائی کی پہلی کھیپ سے بھی پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کھلے اور جارحانہ انداز میں اعلان کر دیا ہے کہ جنگ بندی عارضی ہوگی۔اس عارضی جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ لامحالہ حماس اور دوسری فلسطینی مزاحمتی تحریکیں بھی اپنا بچاؤ، دفاع اور حق زندگی استعمال کرنے کے لیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں رہیں گی۔

جس سے صاف لگتا ہے کہ مستقبل میں جنگ سے نجات کے لیے ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔چھ ہفتوں کے معاہدے پر اتوار کی صبح سوا گیارہ بجے سے عمل سے اسرائیلی بستیوں میں بھی کافی پرجوشی ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ آنے والے دنوں پر کیا اثرات ہوں گے۔کیونکہ اسرائیل میں حکومتی و سیاسی سطح پر جنگ کی خواہش اسرائیلی فوج کے مقابلے میں بھی نسبتاً زیادہ نظر آتی ہے۔ یہ بلاوجہ بھی نہیں ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنے مقاصد کے حصول میں تقریباً ساڑھے ٍ15 ماہ کی جنگ کے دوران وہ کامیابی نہیں مل سکی ہے، جو نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کے خوابوں میں موجود تھی۔


معاہدے کی بقا اسرائیل پر منحصر ، خلاف ورزی یرغمالیوں کیلئے خطرناک ہوگی: القسام

غزہ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیل کا مقابلہ کرنے والے مزاحمتی گروپوں میں سے سب سے بڑے گروپ القسام بریگیڈ نے جنگ بندی معاہدے کے بارے میں اسرائیلی اعلی عہدے داروں کے اتوار کے روز سامنے آنے والے بیانات پر کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی القسام کی طرف سے پابندی کی جائے گی۔ مگر اسرائیل یا اس کی فوج نے کوئی خلاف ورزی کی تو اس سے یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔القسام کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں جنگ بندی معاہدہ کرانے والے ثالث ملکوں سے کہا ہے وہ اسرائیل کو معاہدے پر عمل کرنے لیے مجبور کریں۔

ابو عبیدہ نے اس ویڈیو بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ القسام معاہدے کے تمام مراحل کی پابندی کرے گا اور اس دوران غزہ میں دونوں طرف کے قیدیوں کی رہائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔ لیکن اس کا انحصار دشمن کے ارادوں پر ہو گا، اگر قبضے نے خلاف ورزیوں کی کوشش کی تو اس سے تبادلے میں رہائیوں کا عمل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ترجمان القسام بریگیڈ نے کہا ‘ ہم اپنے لوگوں کے خون کے تحفظ اور ذپنے مقاصد کے تحفظ کے لیے معاہدے کے تمام مراحل اور ان سے متعلق تمام تر تفصیلات پر بروقت عمل اور کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس لیے ثالثوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ دشمن کو بھی معاہدے کی پابندی پر مجبور کریں۔’واضح رہے اتوار ہی کے روز اس سے پہلے القسام کے اہلکاروں نے تین اسرائیلی قیدی خواتین کو عالمی ریڈ کراس کے حوالے کر کے رہا کیا۔ ان تین اسرائیلی خواتین کے بدلے میں اسرائیل کو 90 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی جیلوں سے رہا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button