سیف علی خان کو اسپتال لے جانے والے آٹو ڈرائیور کو ملا انعام
یہ انعام آٹو ڈرائیور کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ایک تنظیم نے دیا
ممبئی ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کا معاملہ گزشتہ کچھ دنوں سے سرخیوں میں ہے۔ حملے کے مرکزی ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس دوران زخمی اداکار کو لیلاوتی اسپتال لے جانے والے آٹو ڈرائیور کو انعام دیا گیا ہے۔ ڈرائیور کو 11000 روپے کا چیک بطور انعام دیا گیا ہے۔ یہ انعام آٹو ڈرائیور کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ایک تنظیم نے دیا ہے۔سیف کو اسپتال لے جانے والے آٹو ڈرائیور کا نام بھجن سنگھ رانا ہے۔ ایک تنظیم نے ان کے کام کو سراہا اور انعام کے طور پر 11 ہزار روپے کا چیک دیا اور ایک شال بھی دی۔ بھجن سنگھ رانا اتراکھنڈ کا رہنے والا ہے اور برسوں سے ممبئی میں آٹو چلا رہا ہے۔
وہ اداکار کو اسپتال لے جانے کے بعد سرخیوں میں آگئے۔ سوشل میڈیا پر ان کی کافی تعریف ہو رہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ڈرائیور کو بھی پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا اور اس معاملے کی مکمل معلومات لی تھیں۔ایک انٹرویو کے دوران بھجن سنگھ رانا نے بتایا تھا کہ وہ رات کو آٹو چلاتے ہیں۔ جب سیف پر حملہ کیا گیا تو ایک خاتون سڑک کے بیچ میں آئی اور چلّا کر آٹو کو روک دیا۔ اس نے آواز دی، رکشے والے۔ اس دوران سیف علی خان نے سفید رنگ کا کُرتا اور پاجامہ پہن رکھا تھا جو پوری طرح خون میں لت پت تھا۔ آٹو ڈرائیور نے کہا کہ اس وقت انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ سیف علی خان ہیں۔ ڈرائیور نے بتایا کہ سیف علی خان کے ساتھ ان کے دو بیٹے تیمور اور جیہ بھی آٹو میں سوار تھے۔
بھجن سنگھ نے بتایا کہ جب انہیں ہسپتال کے ایمرجنسی دروازے پر لے جایا گیا تو وہاں ایک ایمبولینس کھڑی تھی۔ انہوں نے اپنا آٹو وہیں کھڑا کر دیا۔ اسپتال پہنچتے ہی سیف نے کہا کہ اسٹاف کو جلدی سے بلاؤ، میں سیف علی خان ہوں۔ بھجن سنگھ نے بتایا کہ تب ہی انہیں معلوم ہوا کہ یہ اداکار سیف علی خان ہیں۔ اس کے بعد سیف آٹو سے اتر کر اسپتال کے اندر چلے گئے۔ ڈرائیور نے کہا کہ انہوں نے ان سے کرایہ بھی نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ زندگی سے زیادہ اہم نہیں ہے۔
واضح ہوکہ ملزم کا نام محمد شریف الاسلام شہزاد ہے جو بنگلہ دیش کا رہائشی ہے۔ ممبئی پولیس نے اسے کل تھانے سے گرفتار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور سیف کے بیٹے جہانگیر کو یرغمال بنانے اور رقم کا مطالبہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ملزم کا ارادہ ایک کروڑ روپے لے کر ہمیشہ کے لیے بنگلہ دیش واپس جانے کا تھا۔ کل اسے باندرہ کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اسے پانچ دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ پولیس اور کرائم برانچ اس سے پوچھ گچھ کریں گے۔



