مرکز امام مہدی،دنیائے اسلام کی چوتھی مقدس عبادت گاہ جامع اموی
حافظ محمد محمد امین حبان متعلم مسجد مزمل بنگلور
جامع اموی – دنیائے اسلام کی چوتھی مقدس ترین مسجد
جامع اموی دمشق کی ایک عظیم الشان مسجد ہے جسے دنیائے اسلام میں چوتھی مقدس ترین عبادت گاہ کا درجہ حاصل ہے۔ ترتیب اور اہمیت کے لحاظ سے یہ مسجد اقصیٰ کے بعد آتی ہے۔
جامع اموی کی تعمیر اور تاریخی پس منظر
705ء میں ولید بن عبدالملک نے اس مسجد کی تعمیر کرائی۔ اسے دنیا کی خوبصورت ترین عبادت گاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس کے بعد اسی جامع مسجد کا مقام آتا ہے۔
مسجد کا طول و عرض اور فنِ تعمیر
جامع اموی کا طول ساڑھے پانچ سو قدم اور عرض ڈیڑھ سو قدم ہے۔ اس کی تعمیر کے لیے ولید بن عبدالملک نے سات سال تک شام کا پورا سالیہ وقف رکھا۔ جب مقامی کاریگر معیار پر پورے نہ اترے تو ایران اور ہندوستان سے ماہرین کو بلایا گیا، اور بازنطینی شہنشاہ سے ایک سو یونانی کاریگر بھی منگوائے گئے۔
بیرونی اور اندرونی تزئین و آرائش
مسجد کی دیواروں اور چھتوں کو رنگ برنگے پتھروں اور نایاب سنگِ مرمر سے مزین کیا گیا۔ دیواروں پر سنہری بیل بوٹے کندہ کیے گئے، جبکہ جابجا قیمتی جواہرات جڑے گئے۔
مسجد کے قندیلیں، ستون اور سنہری بیل بوٹے
مسجد کے ستون سنگ سماق اور سنگ رخام کے مختلف رنگوں کے بنائے گئے ہیں۔ اس کے قبہ میں بارہ ہزار قندیلیں نصب تھیں جو سونے اور چاندی کی زنجیروں میں لٹکی ہوتی تھیں اور رمضان میں روشن کی جاتی تھیں۔
چار مسالک کے علیحدہ محراب
جامع اموی میں چار بڑے مصلے بنائے گئے ہیں جو حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک کے لیے مخصوص ہیں، تاکہ ہر مسلک کے پیروکار اپنے طریقے کے مطابق نماز ادا کر سکیں۔
اذان دینے کا منفرد نظام
اس مسجد میں 75 مؤذن مقرر تھے جو تین میناروں پر چڑھ کر اذان دیتے تھے۔ مولوی محبوب عالم کے مطابق، ظہر کے وقت مسجد کے مشرقی مینار پر 15 سے 20 افراد ایک ساتھ اذان دیتے، جس سے ان کی ہم آہنگ آوازیں دور تک سنائی دیتی تھیں۔
جامع اموی کے تاریخی مینار
ولید بن عبدالملک نے مسجد کی شمالی سمت میں ایک مینار تعمیر کرایا تھا جس پر رات کے وقت روشنی کی جاتی تھی۔ بعد میں اسی طرز کی تعمیر شام، شمالی افریقہ اور ہسپانیہ میں بھی اپنائی گئی۔ یہ اسلامی طرز کا سب سے قدیم اور خالص مینارہ ہے۔ جنوبی سمت کے دو مینار پہلے گرجے کے برج تھے۔
امام غزالی اور جامع اموی
امام غزالی اسی مسجد کے شمالی مینار میں عبادت اور مراقبے کے لیے معتکف رہے۔ ان کے قیام نے جامع اموی کی روحانی حیثیت میں مزید اضافہ کیا۔
اسلام میں محراب کا اولین استعمال
جامع اموی کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ نماز کے لیے محراب سب سے پہلے اسی مسجد میں بنائی گئی۔ اس مسجد میں پہلی بار نعل نما محرابیں تعمیر کی گئیں، جو بعد میں اسلامی فن تعمیر کا حصہ بن گئیں۔
مسجد کی تعمیر پر ہونے والا خرچ اور کاریگروں کی تعداد
ایک اندازے کے مطابق، جامع اموی کی تعمیر پر تین کروڑ اشرفیاں خرچ ہوئیں۔ اس کی تعمیر میں تمام اسلامی ممالک کے کاریگر شامل تھے، جبکہ بارہ ہزار ماہر سنگ تراش اور معمار بلاد روم سے بلوائے گئے۔ ابن عساکر نے اپنی کتاب العیون میں لکھا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں ایک لاکھ کاریگر شامل تھے۔
جامع اموی کی ابتدائی تاریخ
جامع اموی کی جگہ پہلے ایک رومی مندر تھا جو دیوتا جوپیٹر کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ بعد میں، رومی شہنشاہ آرکائیس نے پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں اس مقام پر ایک کلیسا تعمیر کروایا۔
جامع اموی کی تعمیر اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مقدس مقام
705ء میں ولید بن عبدالملک نے اس گرجے کو فتح کرکے یہاں جامع اموی کی بنیاد رکھی۔ یہ وہی مقام ہے جہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر مبارک کٹنے کے بعد رکھا گیا تھا، جو آج بھی مسجد کے اندر محفوظ ہے اور اس پر ایک قبہ بنا دیا گیا ہے۔
ایک اور مسیحی اثر بھی مسجد میں محفوظ ہے یعنی جنوبی سمت کے رواق کا کتبہ جس کی عبارت یہ ہے "اے مسیح! تیری بادشاہت دائمی ہے اور تیری حکومت نسلاً بعد نسل قائم رہے گی۔”۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ روز قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی اسی مسجد کے کسی مینار پر ہوگا۔
جامع اموی کی پہلی آتش زدگی (1069ء)
1069ء میں یہ مسجد پہلی بار آگ کی نذر ہوگئی، مگر اسے دوبارہ اسی شان و شوکت سے تعمیر کیا گیا۔
تیمور لنگ کی یلغار اور دوسری آتش زدگی
جب تیمور لنگ نے دمشق فتح کیا تو اس نے جامع اموی کو ایک بار پھر آگ لگوا دی۔ اس تباہی کے بعد مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اسے اسلامی فنِ تعمیر کی شاندار مثال کے طور پر بحال کیا گیا۔
1893ء کی تباہ کن آتش زدگی
1893ء میں جامع اموی کو ایک اور آتش زدگی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے مسجد کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس حادثے میں وہ تاریخی قرآن مجید بھی متاثر ہوا جس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون گرا تھا، جب وہ اپنی شہادت کے وقت تلاوت فرما رہے تھے۔
اہلِ دمشق نے اس عظیم مسجد کی بحالی کے لیے چندہ اکٹھا کیا اور تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا۔ مشہور مؤرخ منشی محبوب عالم کے مطابق، 1900ء تک مسجد کا بڑا حصہ مکمل ہوچکا تھا اور اس پر تقریباً 50,000 پاؤنڈ خرچ کیے جا چکے تھے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کی آخری آرام گاہ
جامع اموی کے سامنے اسلامی تاریخ کے عظیم جرنیل سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر واقع ہے، جو اس مسجد کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔
جامع اموی کی زیارت – روحانی تجربہ
آج بھی دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اس مسجد کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور اس کے تاریخی اور مذہبی مقامات سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ دمشق کا سفر کر رہے ہیں، تو جامع اموی کی زیارت کو اپنی فہرست میں ضرور شامل کریں۔
جامع اموی – اسلامی فنِ تعمیر اور تاریخ کا خزانہ
جامع اموی دمشق نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے، بلکہ اسلامی تہذیب، ثقافت، اور فنِ تعمیر کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس مسجد کی تاریخی اور روحانی حیثیت اسے دنیا کی عظیم ترین مساجد میں شامل کرتی ہے۔
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ



