تحفظ جسم و جان, سردی میں رکھیں سردی کا خیال-حفصہ فاروق بنگلور
سردی کے مضر اثرات کا اثر بالوں پر بھی ہوتا ہے
سال میں چار موسم ہوتے ہیں سردی، گرمی، خزاں اور بہار۔ ان بدلتے موسموں میں بھی اللہ کی حکمت،رحمت اور مصلحت ہوتی ہے۔ اور ہر موسم کے اپنے الگ رنگ، فائدے اور لطف ہیں۔ موسم کی تبدیلی انسانی صحت پر مضر اثرات بھی مرتب کرتی ہے اس لیے خود کوموسم کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا بہت ضروی ہوتا ہے۔ موسم کی تبدیلی و تغیر سے نئے نئے امراض کے جنم لینے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ موسمی اثرات کے پیشِ نظرعمومی طور پر موسمِ گرما کی بہ نسبت لوگ موسمِ سرما میں زیادہ بیمار پڑتے ہیں عام طور پر ہمارے یہاں موسمِ سرما ماہ اکتوبر یا نومبر سے شروع ہو جاتا ہے جو تقریبا ماہ فروری تک رہتا ہے۔ لیکن صحت و تندرستی اور غذا کے زود ہضم ہونے کے لئے موسمِ سرما سب سے اچھا موسم ہے۔
موسم سرما یعنی سردی کے مضر موسمی اثرات ویسے تو ہر انسان پر ہی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن عام طور پر یہ جسمانی طور پر کمزور افراد، بڑی عمر کے افراد اور بچوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور ان کے لیے بھی جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ایسے لوگ سردی کے مضر اثرات کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور موسم سرما میں اکثر موسمی بیما ریوں اوردوسری بیماریوں کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ اور موسم سرما کی سرد ہوائیں تو ان کے لیے مزید مضر صحت ثابت ہوتی ہیں۔گرمیوں کی نسبت سردیوں کے موسم میں ہوا میں نمی کاتناسب کم ہوجاتا ہے اور خنکی اور خشکی بڑھ جاتی ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام پر اثر ڈالتی ہے۔
سردی کے موسم میں کئی بیماریاں مثلاً موسمی بخار انفلوئنزا یا وبائی فلو، نمونیہ،،دمہ، نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خرابی اور سوزش، جوڑوں کا درد، ناک بند ہونا، الرجی،سینے کا جکڑنا یا انفیکشن، جلد کی خشکی، جلدی بیماریاں، خارش، سردرد اورکمر درد وغیرہ پیدا ہوجاتی ہیں اور طبیعت میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ اوربدلتے موسم میں کچھ وائرس اور بیکٹریا بھی موسمی بیماریوں اور وبائی امراض کا با عث بنتے ہیں۔ سردیوں میں دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ سردیوں میں خون کے بہائو میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔سردیوں میں جلد بھی خشک اور بے رونق ہو جاتی ہے۔
ان سب باتوں کے باوجود سردی کے موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے چند باتوں کا خیال رکھنا اور کچھ حفا طتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں ۔اس کے لئے سب سے پہلے آپ اپنی صحت کا پورا خیال رکھیں جو چیزیں یا جو باتیں آپ کو بیمار کرسکتی ہیں ان سے ضرور بچئے۔ مثلاً سردیوں میں گرم کپڑے پہنیں جرابیں اور دستانوں کا استعمال کریں اور سر، پاؤں،چہرہ کو ڈھانپ کر رکھیں تو ٹھنڈ، بخار، سر درد، ناک کا بند ہونا نزلہ، زکام اور کئی دوسری بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر بزرگوں کو گرم کپڑے پہن اوڑھ کر رہنا چاہئے اور اپنے آپ کو ڈھانپ کر اور جِلد کو خشک ہونے سے بچانا چاہئے۔
اسی طرح بچے بھی زیادہ حساس ہوتے ہیں اس لیے انھیں سردی کے مضر اثرات سے بچانے کے لئے گرم کپڑے پہنائیں اور ڈھانپ کر رکھیں لیکن اتنے زیادہ گرم ملبوسات بھی نہ پہنائیں اور نہ اتنا ڈھا نپ کر رکھیں کہ وہ بیمار ہوجائیں۔ کمر درد، سردرد جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے بچا ؤ کے لئے بھی موسمِ سرما کی ٹھنڈ اورسرد ہواؤں سے خود کو بچائیں اور گرم ملبوسات، دستانوں، جرابوں اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔ جن افراد کوگرم کپڑوں سے الرجی یا خارش ہو وہ اونی کپڑوں کے نیچے کاٹن یعنی سوتی کپڑوں کا استعمال کریں۔
موسمِ سرما میں جسم کے درجہ حرارت کو گرم رکھنے کے لئے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ سردیوں میں انسانی جسم زیادہ توانائی خرچ کرتا ہے۔ سردی میں مختلف سبزیا ں، پھل میوہ جات کو سردی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں یہ موسم سرما کی سوغات ہیں، اور موسم سرما میں بہت مفید ہیں۔
مثلا مختلف قسم کی سبزیاں، ساگ، میوہ جات اور پھل انسان کے جسم میں توانائی کا ایسا ذخیرہ پیدا کرتے ہیں جو قوت مدافعت کو تیز کرتے ہیں اور جسم کو حرارت مہیا کرتے ہیں۔ اُن کا با قاعدگی سے استعمال انسان کو سردی کے مضر اثرات اور موسمِ سرما کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس لیے خشک میوہ جات، گوشت، مچھلی، انڈا، کافی، چائے یا قہوہ ، شہد،موسم سرما کی سبزیوں اور پھلوں کو روزانہ اپنی غذا کا حصہ بنا ئیں۔ یہ تمام چیزیں صحت کے لئے اچھی ہیں۔جیسے مالٹا یا کینو میں موجود وٹامن سی نہ صر ف بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ جلد کے لئے بھی بہت مفید ہے۔
سردیوں کے موسم میں پیاس کم لگتی ہے اس لئے لوگ پانی کم پیتے ہیں۔ لیکن جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لیے پانی ضروری ہے اس لئے پانی کا استعمال کم نہ کریں بلکہ روزانہ آٹھ گلاس پانی ضرور پیئں۔اس سے جلد بھی تروتازہ رہتی ہے۔ اصل موسمِ سرما میں صحت کی جانب سے لاپرواہی اور بے احتیاطی ہی بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔اگر سردی میں احتیاط کی جائے اوراحتیاطی تدابیراختیار کی جا ئیں تو موسم سرما سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔
موسمِ سرما کی ٹھنڈی ہواؤں سے خود کو محفوظ رکھئے کمرے کو ٹھنڈی ہوا سے بچانے اور گرم رکھنے کے لیے دروازے کھڑکیاں بند کر کے رکھیں اور کھڑکیوں اور دروازوں پرپردہ ڈالیں۔اگر کمرہ کو گرم کرنے کے لیے کوئلہ، لکڑیاں وغیرہ جلانا ضروری ہو تو ان کو کمرے سے باہر کسی کھلی جگہ جلا کر کمرے میں لائیں، کیونکہ ان کے دھوئیں سے کاربن مونو آکسائیڈ گیس پیدا ہو تی ہے جو انسانوں کے لیے مضرصحت ہے اور دھویں سے سانس کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔
سردیوں میں اکثر جلد کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ چہرے اور جسم کی جلد خشک ہوسکتی ہے اور اگریہ زیادہ عرصے تک خشک رہے تو جلد کی سوزش ہو جاتی ہے۔پاؤں کی ایڑیاں پھٹنا بھی عام ہے۔ اس لئے سب سے پہلے غذا پر توجہ دیں اور پھر پٹرولیم جیلی، کولڈ کریمیں لوشن اور گلیسرین کا بھی استعمال کریں۔
سردی کے مضر اثرات کا اثر بالوں پر بھی ہوتا ہے اور سر کی جلد بھی خشک ہو جاتی ہے اور بال خشک ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس لیے کسی اچھے شیمپو کا استعمال کریں اور بالوں میں تیل یعنی آئل ضرور لگائیں۔ موسم سرما میں ورزش، تازہ پھلوں، سبزیوں اور میوہ جات کے استعمال، جسمانی صفائی سے نہ صرف امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے بلکہ موسم سرما کا لطف بھی اُٹھا سکتے ہیں۔



