سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

سمسم کے بیج,موسمِ سرما کا تحفہ تل

سفید تل میں کیلشیئم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

تل کے چھوٹے چھوٹے بیج غذائیت اور روغن سے بھر پور ہوتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے سفید اور کالے رنگ کے بیجوں پر مشتمل تل زمانہ قدیم سے استعمال کئے جار ہے ہیں۔ ان کی غذائیت گوشت کے برابر قرار دی جاتی ہے۔ اس میں گوشت کے تمام خواص پائے جاتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ خرابیاں موجود نہیں جو گوشت میں ہوتی ہیں۔ تلوں کا دوا کا درجہ بھی حاصل ہے، ان کی تاثیر گرم ہے۔ سردی کے موسم میں ان کا استعمال نہایت مفید ہے۔ لیکن اگر ڈاکٹر نے آپ کو گرم چیزیں کھانے سے منع کیا ہے تو پھر ان کا استعمال نہ کریں۔

تیل بھی خشک میوہ جات کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ تل طاقت حاصل کرنے اور عمر بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ محنت کشوں کی مضبوطی اور دیہات کے باشندوں کی درازی عمر کار از تل جیسی معمولی چیز میں پوشیدہ ہے۔ اکثر اوقات گھروں میں سفید اور کالے تل صرف میٹھی غذاؤں اور مخصوص پکوانوں میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ان کی افادیت سے لا علمی ہی ہے کہ جو ان کا استعمال شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔ تل کے بے شمار فوائد ہیں۔ یہ ذیا بیطس، بلڈ پریشر،کینسر، ہڈیوں کی کمزوری، جلد کو پہنچنے والے نقصانات، دل کی کمزوری، ہڈیوں کی کمزوری، جلدی بیماریوں، منہ کی بیماریوں سے بچاتا ہے اور جسم کو ڈیٹا کسیفائی کرتا ہے۔

سفید تل میں کیلشیئم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے جو افراد کیلشیم کی کمی کا شکار ہوں، انہیں چاہیے کہ وہ سفید تل کے ذریعے اپنی کیلشیم کی کمی کو پورا کریں۔ لیکن بہت زیادہ نہ کھائیں۔ وہ بھی نقصان دہ ہے۔ یہ بواسیر کے مرض میں بھی مفید ہیں۔ یہ پانی کے ساتھ گرائنڈ کر کے خونی بواسیر کے علاج کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ بواسیر کا خون بند کرنے کا بہترین علاج ہے۔ جسم کے گلے سڑے خلیوں کی تعمیر اور مرمت میں یہ حیرت انگیز کرشمے دکھاتا ہے۔ خون کی کمی کو دور کرنے کے لئے کالے تل بہتر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں آئرن کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ اگر کالے تل نیم گرم پانی میں بھگو کر گرائنڈ کر کے چھان کر اس میں دودھ ملا کر پیا جائے تو چند روز میں خون کی کمی دور ہو جاتی ہے۔ جسم کو موٹا، سرخ و سفید اور طاقتور بنانے کے خواہشمند افراد اس کو بادام اور خشخاش کے ساتھ رات کو سوتے وقت دودھ کے ساتھ کھائیں اور دو تین ہفتے تک اس کا استعمال رکھیں۔

یہ مثانے کو بھی قوت دیتا ہے، اسی لیے تلوں والی ریوڑی یا گجک کھانے سے بستر پر پیشاب کرنے کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور قطرہ قطرہ پیشاب آنے کی شکایت بھی دور ہو جاتی ہے۔ آدھا چمچ پسے ہوئے تل نیم گرم پانی کے ساتھ دن میں دو بار کھانے سے حیض کے مسائل جیسے شدید درد اور حیض کی کمی وغیرہ دور ہو جاتی ہے۔

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

یہ نظام ہاضمہ کے لئے بہترین ہیں۔ ان میں فائبر پایا جاتا ہے جو قبض کو دور کرتا ہے۔ یہ انرجی اور میٹا بولزم کو بڑھاتے ہیں۔ تل کے بیچ گری دار میوے نہیں ہوتے، حالانکہ بہت سے لوگ ان کو بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ جس سے الرجی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ کو گری دار میوے کی کچھ اقسام سے الرجی ہے تو اپنے معالج سے تل کے بارے میں سے بات کرنا ضروری ہے۔ معالج سے اپنی صحت کے حوالے سے مشورے کے بعد تلوں کا استعمال کریں۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ جوائین کرنے کے لئے لنک کلک کریں

https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

متعلقہ خبریں

Back to top button