بین ریاستی خبریں

بہار:کھجور بانی شراب کیس کا فیصلہ، 9 مجرموں کو سزائے موت

بہار:کھجوربانی شراب کیس کا فیصلہ، 9 مجرموں کو سزائے موت

گوپال گنج؍پٹنہ:(اردودنیا.اِن)بہار کے بدنام زمانہ کھجور بانی شراب کیس کے 9 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ جمعہ کو گوپال گنج کے اے ڈی جے -2 نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے 26 فروری کو اس معاملہ میں 13 افراد کو مجرم قرار دیا، ان میں سے 11 فی الحال جیل میں ہیں۔ مفرور دو مجرموں کی گرفتاری کے لئے تازہ وارنٹ جاری کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 16 اگست 2016 کو 19 افراد کچی شراب پینے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

تھانہ سے صرف 2 کلومیٹر دور کھجوربانی میں بڑی مقدار میں دیسی شراب بنایا جا رہا تھا۔پولیس پر جانکاری کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا الزام تھا۔ واقعے کے بعد تھانہ کے تمام پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا تھا۔12 جون 2020 کو بہار کے ڈی جی پی نے 21 پولیس اہلکاروں بھی کو برطرف کردیا۔ اس سال 14 جنوری کو ہائی کورٹ نے 5 پولیس اہلکاروں کو برطرف کرنے کے حکم کو منسوخ کردیا ،

ان میں سے ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہے۔ بقیہ 16 پولیس اہلکاروں کو برخاست کرنے کا حکم بھی ہائی کورٹ کے اس حکم سے منسوخ کردیا گیا۔یاد رہے کہ16 اگست 2016 کو گوپال گنج کے وارڈ نمبر 25 میں کھجوربانی کے علاقہ میں کسی نہ کسی گھر میں موت ہوئی تھی، مرنے والے سبھی غریب خاندانوں سے تھے۔ زہریلی شراب کی وجہ سے بہت لوگوں کی بینائی بھی ختم ہوگئی۔

اس حادثہ نے گوپال گنج ضلع سے لے کر ریاستی ہیڈ کوارٹر تک ہلچل مچادی تھی ، معاملے کی چھان بین کے لئے سارن ڈویژن کے اس وقت کے کمشنر ، ترہت علاقے کے ڈی آئی جی ، آئی جی اور محکمہ ایکسائز کے پرنسپل سکریٹری کو بھی گوپال گنج بھیجا گیا تھا۔

جب سینئر افسران ا س کی تفتیش کے لئے گئے تو وہاں شراب ، ڈرم ،شراب بنانے کے آلات اور برتن وغیرہ ملے تھے۔ شراب سے بھرے کئی ڈرم ، جو زمین میں دبا دیئے گئے تھے، پولیس نے انہیں بھی برآمد کرلیا۔ذیل کے لوگ مجرم قرار دیئے گئے ۔کنہیا پاسی ، لال جھری دیوی ، نگینہ پاسی ، راجیش پاسی ، سنوج پاسی ، سنجے پاسی ، اندو دیوی ، کیلاشو دیوی ، لال بابو پاسی ، رنجن چودھری ، منا چودھری ، ریتا دیوی اور لال دھاری دیوی، جب کہ منوج پاسی اور سنجے پاسی فرار ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button