سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

فطرت کے خلاف,کوئلہ مٹی کھانے کا اصل سبب

مثلاً ملتانی مٹی، چاک، کاغذ، منجن، کوئلہ و غیرہ،

بہت سی خواتین اور بچے ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو عام غذائیں نہیں ہوتی مثلاً ملتانی مٹی، چاک، کاغذ، منجن، کوئلہ و غیرہ، اس طبی کیفیت کو Pica کہا جاتا ہے اور جن لوگوں میں اس قسم کی عادت ہوتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں آئرن کی کمی ہے۔ اگرچہ آئرن کی کمی اور پائیکا میں تعلق ہے لیکن طبی جائزوں سے یہ معلوم نہیں کیا جا سکا ہے کہ اس کا حقیقی سبب کیا ہوتا ہے۔ تاہم ایک ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پائیکا کے جن مریضوں پر تحقیق کی گئی انہیں جب ورید کے راستے آئرن کی خوراک دی گئی تو ان میں غیر غذائی اشیاء کھانے کی عادت ختم ہوگئی۔

بیمار ناخن: ایسے ناخن جو بہت آسانی سے ٹوٹ پھوٹ جائیں یا غیر فطری نظر آئیں، اس بات کی علامت ہیں کہ جسم میں آئرن کی کمی ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئرن کی کمی سے ناخنوں کی حالت پر اثر پڑتا ہے اور وہ آسانی سے ٹوٹ سکتے ہیں، نیز ان کی شکل پچکی ہوئی ہوسکتی ہے۔ اس خرابی کو Koilonychia کہتے ہیں۔ ناخن اگر پیلے پڑ گئے ہیں تو یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ جسم میں آئرن کمی ہے کیونکہ ناخنوں کے خلیات تک آکسیجن کم پہنچ رہا ہے۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ جوائین کرنے کے لئے لنک کلک کریں

https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

ٹانگوں کی بے چینی: بعض لوگوں میں ہر وقت اپنی ٹانگیں حرکت میں رکھنے کا عارضہ ہوتا ہے، یعنی وہ ایک پل چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔ نہ صرف دن میں بلکہ رات کو سوتے ہوئے بھی ان کی ٹانگیں ادھر اُدھر حرکت کرتی رہتی ہیں جس سے ان کی نیندا چٹتی رہتی ہے۔ اس طبعی کیفیت کو Restless Legs Syndrome کہتے ہیں۔ ریسٹ لیس لیگز سنڈروم میں مبتلا افراد میں اپنی ٹانگوں کو متحرک رکھنے کی شدید خواہش پائی جاتی ہے اور وہ اپنی ٹانگوں میں ایک قسم کی بے چینی محسوس کرتے ہیں جسے دور کرنے کے لئے وہ ٹانگوں کو ہلانا ضروری سمجھتے ہیں۔ جن لوگوں میں آئرن کی کمی ہوتی ہے ان کے دماغ میں ایک کیمیائی مادہ ڈوپامائن کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے RLS کی علامتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ڈوپامائن ایمینو ایسڈ I-Tyrosine سے بنتا ہے جو گوشت اور انڈے کی سفیدی میں پایا جاتا ہے۔گائے کا گوشت اور آملیٹ کھانے سے آئرن اور ڈوپامائن دونوں کی سطحیں بلند ہو سکتی ہیں۔

بے قاعدہ دھڑکن: کیا آپ دل کی دھڑکن کانوں میں محسوس کرتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ اس احساس کے ساتھ آپ کو یہ بھی محسوس ہوتا ہو کہ دھڑکن بے قاعدہ ہے یا معمول سے زیادہ تیزی سے دل دھڑک رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا تعلق خون میں آئرن کی صورتحال سے ہو سکتا ہے۔ اگر آئرن کی سطح غیر تسلی بخش ہے تو دل تک خون میں آکسیجن لے جانے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے جس کی وجہ سے دل کو زیادہ زور لگا کر پورے جسم میں خون پمپ کرنا پڑتا ہے اور یہ دھڑکن بے قاعدہ یا تیز ہونے کا سبب بنتی ہے۔

خالی خالی ذہن: دماغ کو صحت مند طریقے سے کام کرنے کے لئے آئرن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خون میں آئرن کی کمی ہے تو اس سے دماغ خالی خالی محسوس ہو سکتا ہے۔ مثلاً حال ہی میں کوئی چیز یا واقعہ یاد کرنے میں آپ کو دشواری ہو سکتی ہے، یا کسی کو پہچاننے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ دماغ کو چونکہ زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر خون کے ذریعے دماغ کو کم آکسیجن ملے تو یہ کیفیت دیکھی جاسکتی ہے۔

آئرن Myelin کی پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اعصابی خلیات نیورونز کے گرد ایک حفاظتی خول ہوتا ہے جو اعصابی نظام کو اچھی طرح کام کرنے کے قابل رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیورونز کے درمیان برق رفتاری سے پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جسم کو ضرورت کے مطابق آئرن ملنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ ڈوپامائن اور سیروٹونین جیسے نیوروٹرانسمیٹر ز کی تشکیل میں مدد کرتے ہیں جو ہمارے مزاج اور سوجھ بوجھ کی صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button