19 بچوں کی 40 سالہ ماں نے بزنس اسٹیڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی
9 لڑکیوں اور 10 لڑکوں کی ماں حمدیہ الرویلی کے عزم و حوصلے کو سلام
الریاض : اکثر نوجوان لڑکیاں اور خواتین یہ کہتی ہیں کہ ہم تو مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ہمارے والدین نے کم عمری میں ہماری شادی کرادی۔ پھر شادی کے بعد بچوں کی پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کی وجہ سے ہم ہائیراسٹیڈیز تک نہیں جا پائے، ایسے لڑکیوں اور خواتین کیلئے سعودی عرب کی 40 سالہ حَمدہ الرویلی 19 بچوں کی ماں(9 لڑکیوں اور 10 لڑکوں کی ماں ہیں) ایک بہترین مثال ہے۔ کہتے ہیں نا کہ عزم و حوصلہ پختہ اور مضبوط ہو تو کوئی بھی چیز حاصل کرنا ناممکن نہیں ۔
سعودی عرب کی شادی شدہ خاتون حَمدہ الرویلی Hamda Al Ruwaili نے بھی کچھ ایسا ہی کر دِکھایا۔ سعودی خاتون کو تعلیم حاصل کرنے کا بچپن ہی سے بہت شوق تھا، لیکن والدین نے اُن کی جلد ہی شادی کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ 19 بچوں کی ماں بن گئی ہے۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGxکو جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں |
اتنے زیادہ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے باوجود اس خاتون نے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے شوق کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ آہستہ آہستہ حَمدہ ایک ایک کورس مکمل کرتے ہوئے بزنس اسٹیڈیز میں پی ایچ ڈی کی تعلیم تک پہنچ گئی۔ اس خاتون نے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے رات میں کئی کئی گھنٹے پڑھتے ہوئے گزار دیئے اور پھر بزنس اسٹیڈیز جیسے اہم پروفیشن میں اپنے خاندان کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے ساتھ اپنے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق حمدہ کے لیے اپنی پڑھائی، کام اور بچوں کی پرورش میں توازن رکھنا ایک چیلنج تھا لیکن انھوںنے منصوبہ بندی اور اپنے خاندان کے تعاون سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی حمدہ نے بچوں کی پرورش کرتے ہوئے بیچلر، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ہے۔ اب وہ اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے پر مزید کام کر رہی ہیں۔حمدہ نے اعتراف کیا کہ اتنے بچوں کی پرورش یقیناً ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیےحَمدہ نے اپنے اساتذہ سے تحریک لی۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے بچوں کی پرورش میں میرا رول ماڈل وہ استاد ہے جو طلباءسے بھرا کلاس روم چلاتا ہے۔ میرے لیے ایک بچے کی پرورش 10 بچوں کی پرورش کے مترادف ہے
حَمدہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنے بچوں پر فخر ہے، جو پڑھائی میںذہین ہیں۔ ان کے تمام بچوں نے 94% سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں اور کچھ نے 100% نمبر بھی حاصل کیے ہیں۔ اس کی ایک بیٹی ہائی اسکول میں پڑھتی ہے، جو بہت ہونہار ہے۔ ان کی بیٹی کو ریاض میں کنگ عبدالعزیز سینٹر فار دی گفٹڈ کی جانب سے ایوارڈ بھی ملا ہے۔حَمدہ نے بتایا کےبہت سے بچوں کی ماں کے طور پر اپنی عظیم ذمہ داریوں کے باوجود، میں نے اپنی تعلیمی خواب کو ترک نہیں کیا۔ اللہ کا شکر ہے، یہ کامیابی آسان نہیں تھی، لیکن یہ منصوبہ بندی اور خاندان کی مسلسل حمایت کا ثمر ہے۔



