پاکستان میں توہین مذہب اور توہین قرآن کے چار ملزمان کو ملی سزائے موت
انہوں نے چار اسلامی شخصیات اور قرآن پاک کی توہین کی ہے
اسلام آباد،27جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پاکستان کی ایک عدالت نے توہین مذہب کے جرم میں چار افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان چاروں نے سوشل میڈیا پر اسلام کی چار اہم شخصیات اور قرآن پاک کی توہین پر مبنی پوسٹیں اپ لوڈ کی تھیں۔چاروں سزا یافتہ افراد کے وکیل نے اعلان کیا ہے کہ سزا کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ اپیل کی تیاری جاری ہے۔ہفتہ کے روز راولپنڈی میں مقامی عدالت کے جج طارق ایوب نے ملزمان کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چار اسلامی شخصیات اور قرآن پاک کی توہین کی ہے۔ یہ ان کا ناقابل معافی جرم ہے۔ اس لیے ان کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔عدالت نے ملزمان کو سزائے موت کے علاوہ 46 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے اور ان سب کو جیل بھیج دیا ہے۔ چاروں کو اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق ہوگا۔
سزا پانے والے ملزمان کے وکیل منظور رحمانی نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں عدالتی کارروائی اور تفتیش کے دوران شہادتوں کی کمی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ان سزاؤں کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔ تاکہ اپنے مؤکلین کو انصاف دلا سکیں۔واضح رہے 1980 کی دہائی میں پاکستان میں توہین مذہب، توہین اسلام اور توہین قرآن کے واقعات میں اضافے کے پیش نظر ان جرائم کی روک تھام کے لیے پارلیمان نے نئے قوانین کی منظوری دی تھی۔ تب سے یہ قوانین زیر عمل ہیں۔



