بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ کی پٹی: ہزاروں بے گھر فلسطینی سامان اٹھاکر شمالی علاقوں کی طرف گامزن

ٹرمپ کی تجویز کا مطلب اہل غزہ کی نسلی تطہیر ہے: موسی ابو مرزوق

غزہ ،27جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پیر کے دن کا سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی کے جنوب میں ہزاروں بے گھر فلسطینی ہاتھوں میں اپنا سامان اٹھائے پیدل شمالی علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے۔اس موقع پر ساحل کے نزدیک شارع الرشید واپس جانے والے افراد کی طویل قطاروں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ غزہ میں وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق شارع الرشید کے راستے کسی گاڑٰ کو گزرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ بات اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے میں شامل ہے۔تاہم وزارت داخلہ نے پیر کو جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس سلسلے میں شارع صلاح الدین کا ایک راستہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے گاڑیوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

شارع صلاح الدین سے گزرنے سے پہلے تمام گاڑیوں کی تلاشی لی جائے گی۔خبرکے مطابق اسرائیلی فوج نے نتساریم کے علاقے سے انخلا شروع کر دیا۔ یہ علاقہ غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔اسرائیل نے گذشتہ دو روز کے دوران فلسطینیوں کے گزرنے کے لیے یہ راہ داری کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسرائیل کا موقف تھا کہ پہلے حماس تنظیم اسرائیلی خاتون قیدی اربیل یہود کو رہا کرے۔البتہ وساطت کاروں (مصر، قطر اور امریکا) کی شرکت سے متعلقہ فریقوں کے حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں یہ گتھی بھی سلجھا لی گئی۔ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ غزہ پٹی کے شمالی علاقوں میں واپس جانے والے بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کے ملبوں پر کس طرح رہیں گے۔ بالخصوص جب کہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں 80% عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ اخیم اشٹائنر نے واضح کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی دو تہائی عمارتیں اسرائیلی بم باری سے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس جنگ نے ترقیاتی عمل کے 60 برس کھا لیے۔ اشٹائنر کے مطابق 4.2 کروڑ ٹن ملبے کو ہٹانا ایک خطرناک اور پیچیدہ عمل ہو گا۔

ٹرمپ کی تجویز کا مطلب اہل غزہ کی نسلی تطہیر ہے: موسی ابو مرزوق

دوحہ،27جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) فلسطینی تنظیم حماس کے بیرون ملک نائب سربراہ موسی ابو مرزوق نے اہل غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کیا ہے۔خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اہل غزہ کی جبری ہجرت کے حوالے سے ٹرمپ کا خیال پرانا ہے۔حماس رہنما کے مطابق فلسطینیوں یا عربوں میں سے کوئی بھی جبری ہجرت سے متعلق ٹرمپ کے اس خیال کو قبول نہیں کرے گا۔ابو مرزوق نے باور کرایا کہ امریکی صدر کی جانب سے جبری ہجرت کی تجویز کا مطلب اہل غزہ کی نسلی تطہیر ہے،یہ منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا”۔انھوں نے زور دیا کہ حماس غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے کے لیے مصر نہیں ہے۔

ہم کمیونٹی سپورٹ کمیٹی پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے صدر محمود عباس کی منظوری سے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جانا چاہیے اور کمیونٹی سپورٹ کمیٹی کے تمام نامزد امیدواروں پر آمادگی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ابو مرزوق کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی کے انتظامی امور چلانے کے لیے حماس کا متبادل سامنے لانے میں ناکام رہا اور فتح موومنٹ نے غزہ میں کمیونٹی سپورٹ کمیٹی کو مسترد کر دیا۔انھوں نے کہا کہ حماس تنظیم غزہ کی انتظامیہ کے مستقبل کے حوالے سے تمام تجاویز پر کھلے دل سے غور کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کی سابقہ انتظامیہ نے ہمیں مذاکرات کی پیش کش کی تھی، ہم امریکا کے ساتھ مکالمے کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ٹرمپ ایک سنجیدہ صدر ہیں۔ابو مرزوق نے زور دے کر کہا کہ اگر مشرق وسطی کے لیے ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو ویٹکوف نہ ہوتے تو غزہ معاہدہ نہیں ہو سکتا تھا۔

حماس رہنما کے مطابق تنظیم مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی ریاست پر آمادہ ہے۔سات اکتوبر 2023 کے حملے کے حوالے سے ابو مرزوق نے کہا کہ اس حملے کے بعض مقاصد حال ہو گئے اور بعض کا حصول یقینی نہیں بنایا جا سکا۔انھوں نے واضح کیا کہ 7 اکتوبر کے حوالے سے فلسطینی ریاست کا حصول یقینی نہیں بنایا جا سکا، اسی طرح یہودی بستیوں کی آباد کاری روکے جانے کا مقصد بھی حاصل نہ ہو سکا،البتہ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے مناظر ایسا پیغام ہے جو بنیامین نیتن یاہو (اسرائیلی وزیر اعظم) کی اپنے مقاصد میں ناکامی ثابت کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی خواتین قیدیوں کی حوالگی کے مناظر کوئی نمائش نہیں ؛بلکہ ایک پیغام ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز تجویز دی تھی کہ غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں کو بعض ہمسایہ عرب ممالک منتقل کر دینا چاہیے۔ ان کا اشارہ مصر اور اردن کی جانب تھا۔اپنے صدارتی طیارے ایئرفورس ون پر سوار صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اردن اور مصر کو چاہیے کہ وہ مزید فلسطینیوں کا استقبال کریں بالخصوص جب کہ غزہ کی پٹی مکمل طور پر تباہ حال اور شدید افراتفری کی حالت میں ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عرب ممالک میں غزہ کے لوگوں کی منتقلی عارضی بھی ہو سکتی ہے اور طویل مدت کے لیے بھی۔

ٹرمپ نے بتایا کہ انھوں نے ہفتے کے روز اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی سے بات کی جس میں ان سے غزہ کی پٹی کے مزید لوگوں کے استقبال کی درخواست کی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ مصر بھی مزید فلسطینیوں کا خیر مقدم کرے گا، وہ اس سلسلے میں اتوار کو مصری صدر عبد الفتاح السیسی ے بات کریں گے۔معلوم رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے قاہرہ غزہ کی پٹی کی آبادی کو مصر منتقل کرنے کے حوالے سے کسی بھی اسرائیلی منصوبے کو مسترد کرتا رہا ہے۔ مصر اسے جبری ہجرت کی دوسری مہم شمار کرتا ہے۔مصر کا اس بات پر زور رہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر اپنے گھروں میں رہنے کا حق حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button