اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ، وزیراعلیٰ دھامی کے ہاتھوں پورٹل لانچ
اِس طرح اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہیں ہوئیں آسان
دہرادون،27جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یونیفارم سول کوڈ یعنی یو سی سی اتراکھنڈ میں لاگو کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے آج پیر 27 جنوری 2025 کو یو سی سی کے رولز اور پورٹل کا افتتاح کیا ہے۔ ایسے میں اب اتراکھنڈ ریاست میں یکساں سول کوڈ نافذ ہو گیا ہے۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں یوسی سی نافذ کیا گیا ہے۔ اس صورت میں تمام پراسیس بشمول شادی کی رجسٹریشن، طلاق رجسٹریشن، وصیت وغیرہ یو سی سی قوانین میں دی گئی دفعات کے مطابق کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ دھامی نے اعلان کیا ہے کہ آج ریاست میں یکساں سول کوڈ کے طور پر منایا جائے گا۔ پورٹل پر پہلی رجسٹریشن سی ایم پشکر سنگھ دھامی نے کی ہے۔ چیف سیکرٹری نے پہلا سرٹیفکیٹ بھی وزیراعلیٰ کو دیا۔پیر کو ریاست میں یو سی سی نافذ کیا گیا۔ 27 مئی 2022 کو اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اس کے بعد تقریباً دو سال بعد دو فروری 2024 کو اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ حکومت کے سپرد کی۔ یہ بل آٹھ مارچ 2024 کو اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے منظوری کے لیے صدر جمہوریہ کے پاس بھیجا گیا تھا۔اتوار کو یوم جمہوریہ کے پروگرام کے بعد وزیراعلیٰ دھامی نے کہا کہ بی جے پی نے 2022 میں کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ دھامی نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اتراکھنڈ میں جنس، ذات پات، مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ دھامی نے کہا کہ، ہم نے پی ایم مودی کی قیادت میں 2022 کے اسمبلی انتخابات لڑے تھے۔
اس دوران ہم نے ریاست کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم حکومت بنانے کے بعد یو سی سی کو نافذ کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ہم نے تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ ایکٹ (UCC) اب نافذ ہونے کے لیے تیار ہے۔دھامی حکومت کے مطابق، یہ ایکٹ اتراکھنڈ ریاست کے تمام علاقوں میں لاگو ہوگا۔ یہ اتراکھنڈ سے باہر رہنے والے ریاست کے باشندوں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ یکساں سول کوڈ کا اطلاق اتراکھنڈ کے تمام باشندوں پر ہوتا ہے سوائے شیڈولڈ ٹرائب اور محفوظ اتھارٹی سے بااختیار افراد اور کمیونٹیز کے۔ یو سی سی کا مقصد شادی، طلاق، جانشینی اور وراثت سے متعلق ذاتی قوانین کو آسان اور معیاری بنانا ہے۔ اس کے تحت شادی صرف ان فریقین کے درمیان ہو سکتی ہے۔
1- جن میں سے کوئی بھی زندہ شریک حیات نہیں ہے
2- قانونی اجازت دینے کے لیے دونوں کو ذہنی طور پر قابل ہونا چاہیے۔
3- مرد کی کم از کم عمر 21 سال اور عورت کی 18 سال ہونی چاہیے
4- انہیں کسی ممنوعہ رشتے میں نہیں ہونا چاہیے۔شادی کی تقریبات مذہبی رسوم و رواج یا قانونی دفعات کے مطابق کسی بھی طریقے سے کی جا سکتی ہیں، لیکن ایکٹ کے آغاز کی تاریخ سے 60 دنوں کے اندر شادی کو رجسٹر کرانا لازمی ہو گا۔
اِس طرح اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہیں ہوئیں آسان
دہرادون،27جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پیر 27 جنوری کا دن اتراکھنڈ کی تاریخ میں درج ہوگا۔ آج یو سی سی اتراکھنڈ میں لاگو کردیاگیا۔ یونیفارم سول کوڈ ایکسپرٹ کمیٹی نے یو سی سی قوانین کے لیے بڑی عرق ریزی کی،جو تقریباً دو سالوں میں تیار کیے گئے تھے۔ کمیٹی کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے بہت سی تجاویز موصول ہوئیں، تبھی یو سی سی کے قوانین کو حتمی شکل دی جا سکی، جس پر آج سے عمل درآمد کردیاگیا۔اتراکھنڈ کی دھامی حکومت نے 2022 میں یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی تھی۔
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کو کمیٹی کا چیئرپرسن بنایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ چار دیگر ارکان میں دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج پرمود کوہلی، اتراکھنڈ کے سابق چیف سکریٹری شتروگھن سنگھ کے ساتھ ٹیکس پیئرز ایسوسی ایشن کے منو گوڑ اور ماہر تعلیم سریکھا ڈنگوال کو کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔ ماہرین کی کمیٹی نے مختلف ذرائع سے لوگوں سے رابطہ کیا تو لوگوں نے رابطے کے ہر دستیاب ذرائع سے اپنی تجاویز بھی دیں۔
یو سی سی ایکسپرٹ کمیٹی کی چیئرپرسن ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی اور ان کی ٹیم نے یو سی سی کے حوالے سے ریاست کے 43 اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے 72 گہرے مباحثہ اجلاس منعقد ہوئے۔ کمیٹی کو تجاویز کے ساتھ 49 لاکھ ایس ایم ایس (شارٹ میسج سروس) موصول ہوئے۔ واٹس ایپ سے 29 لاکھ پیغامات موصول ہوئے۔ اتراکھنڈ کے 2 لاکھ 33 ہزار باشعور شہریوں نے بھی اپنی تجاویز دیں۔حتیٰ کہ پورٹلز پر بھی 16 ہزار تجاویز موصول ہوئیں۔ یکساں سول کوڈ کے حامی پوسٹ کے ذریعے تجاویز دینے میں پیچھے نہ رہے۔ جو خود کمیٹی میں نہ آسکے انہوں نے 36 ہزار تجاویز یو سی سی کو بذریعہ ڈاک بھیج دیں۔
یو سی سی ایکسپرٹ کمیٹی کو ای میل کے ذریعے 24 ہزار تجاویز موصول ہوئیں۔ کمیٹی کو دستی طور پر 1 لاکھ 20 ہزار تجاویز بھی موصول ہوئیں۔یہ بھی دعوی ہے کہ اتراکھنڈ یونیفارم سول کوڈ ایکسپرٹ کمیٹی نے دنیا کے کئی ممالک کے یونیفارم سول کوڈز کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ اصول تیار کیے ہیں جہاں یو سی سی لاگو ہے۔ کمیٹی نے متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، نیپال، فرانس، جرمنی، جاپان، کینیڈا اور آذربائیجان کے یو سی سی کا مطالعہ کیا۔
یونیفارم سول کوڈ کے قوانین بنانے اور عمل درآمد کرنے والی کمیٹی نے 12 جولائی 2024 کو یو سی سی کی رپورٹ کو عام کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے پہلے ریاست کے لوگ یو سی سی کی رپورٹ کو پڑھ اور سمجھ سکیں۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ یو سی سی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اسے کابینہ نے منظور کیا اور 07 فروری 2024 کو اسمبلی سے منظور کرالیاگیا۔ یو سی سی کی رپورٹ کو صحیح طریقے سے نافذ کرنے کے لیے اس سے متعلق قواعد تیار کرنے کی ضرورت تھی۔
دراصل یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے لیے، ریٹائرڈ جج رنجنا دیسائی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی ماہر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ ایسے میں جب سے ماہر کمیٹی نے یو سی سی کی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی ہے تب سے لوگ اس رپورٹ کے لیے استفسار کر رہے تھے۔ آر ٹی آئی کے ذریعے رپورٹ بھی مانگی ہے۔ اس کے پیش نظر یو سی سی کے رولز تیار کرنے والی کمیٹی نے رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسے میں کمیٹی نے یکساں سول کوڈ کی رپورٹ کو پبلک کر دیا۔ لہٰذا عام لوگ UCC کی ویب سائٹ ucc.uk.gov.in پر جا کر UCC رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔
کانگریس کا وزیراعلیٰ دھامی سے سوال: یکساں سول کوڈ سے آپ ریاست میں کیسے لائیں گے خوشحالی ؟‘
دہرادون،27جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتراکھنڈ میں آج سے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) نافذ ہو گیا۔ اس معاملہ میں اب سیاسی بیان بازیاں کا دور بھی شروع ہو گیا ہے۔ اتراکھنڈ کانگریس کے سابق صدر گنیش گودیال نے یو سی سی معاملے پر بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ میں وزیر اعلیٰ دھامی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ یو سی سی سے ریاست میں خوشحالی کس طرح لائیں گے؟
گنیش گودیال نے یہ سوال خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات چیت کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں یو سی سی نافذ ہونے کا استقبال کرتا ہوں، لیکن ریاستی حکومت سے میرے کئی سوالات بھی ہیں۔ یو سی سی بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ کشمیر میں 370 دفعہ ہٹا کر ’جملہ‘ دیا گیا کہ اب تو پورے ملک میں خوشحالی آنے والی ہے۔ یو سی سی بھی دفعہ 370 کی طرح ہی ہے، کیونکہ اس تعلق سے تنازعہ کھڑا کر ریاستی حکومت اپنی تمام ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ ریاست میں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اس کے علاوہ بدعنوانی بھی عروج پر ہے اور سرکاری محکموں و انتظامیہ میں بیٹھے لوگوں کے ذریعہ اسے انجام دیا جا رہا ہے۔ انہی مسائل سے دھیان بھٹکانے کے لیے یو سی سی نافذ کیا جا رہا ہے۔گنیش گودیال نے پشکر سنگھ دھامی کے سامنے کچھ اہم سوالات بھی رکھے۔ انھوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ دھامی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یو سی سی سے اتراکھنڈ میں کس طرح خوشحالی آئے گی۔ ریاستی نوجوانوں کا اس سے کیا بھلا ہوگا؟ اس بارے میں وزیر اعلیٰ کو بانا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یو سی سی کو ناکامیاں چھپانے کے لیے ہی لایا گیا ہے۔انھوں نے اتراکھنڈ میں ایک سابق رکن اسمبلی اور رکن اسمبلی کے درمیان ہوئی گولی باری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ میں لاء اینڈ آرڈر کہاں ٹھیک ہے؟
آپ خود ہی ان سے سوال پوچھ لیجئے۔ ڈیڑھ سال پہلے بی جے پی کے ایک وزیر نے برسرعام سڑکوں پر ایک شخص کی پٹائی کی تھی۔ اگر اس وزیر پر کارروائی ہوتی تو آج یہ سب حادثات نہیں ہوتے۔ انکتا بھنڈاری کو ان کے لیڈروں نے مار ڈالا۔ جب وہ اپنے وزراء کو بچا رہے ہیں تو سوال یہی ہے کہ اگر وہ مجرموں کو معاف کریں گے تو حالات کیسے بہتر ہوں گے؟ اس طرح تو جرائم پیشوں کا حوصلہ بڑھے گا۔ سچ تو یہی ہے کہ ریاست میں نظامِ قانون کے نفاذ میں بری طرح ناکام ہے۔



