ایران روسی ساختہ لڑاکا طیارے سخوئی 35 خرید چکا ہے: پاسداران کمانڈر
جنگی مشقوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے لیس میزائلوں کے تجربے
تہران،28جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے پیر کے روزانکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنے فضائیہ کے لیے روسی ساختہ سخوئی 35 لڑاکا طیارے خرید لیے ہیں۔روسی جنگی طیارے اس کے باوجود خریدے گئے ہیں کہ مغربی ممالک ایران اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں بڑھنے والے جنگی و دفاعی تعاون پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر علی شادمانی کے حوالے سے یہ خبر سرکار سے وابستہ ابلاغی ادارے’ سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک ‘ نے رپورٹ کی ہے۔ تاہم رپورٹ میں ان خریدے گئے روسی طیاروں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے نومبر 2023 میں ایک سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران نے روس سے جیٹ طیارے خریدنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ تاہم اس ماہ کے شروع میں ایران اور روس نے اس سلسلے میں ایک جامع سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس میں ہتھیاروں کی ترسیل کا ذکر نہیں ہے البتہ یہ طے کیا گیا ہے کہ دونوں ملک فوجی شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹیکنالوجی کا تعاون کریں گے۔ایرانی ایئر فورس کے پاس اس وقت محض چند درجن لڑاکا طیارے ہیں۔
ان میں روس سے لیے گئے جنگی طیاروں کے علاوہ امریکہ سے 1979 سے قبل حاصل کیے گئے جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔کمانڈر شادمانی نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسرائیل کی 26 اکتوبر 2024 کو کی گئی فضائی یلغار کے بعد اپنے نقصان ہو چکے دفاعی نظام کو بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ آزمودہ اور تجربے سے گرے ہوئے دفاعی نظام کا حصول ممکن بنایا جائے۔یاد رہے ایرانی حکام نے اسرائیلی حملے کے بعد بتایا تھا کہ ایران کا بہت محدود نقصان ہوا ہے۔ اس میں ریڈروں کے علاوہ چار اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی میزائل سسٹم کو اسرائیلی حملے کے دوران کافی نقصان پہنچا تھا۔
جنگی مشقوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے لیس میزائلوں کے تجربے
تہران،28جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایرانی کی پاسداران انقلاب فورس نے اپنی مشقوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے آراستہ میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ ایران کے ریاستی میڈیا کے مطابق یہ جنگی مشقیں خلیجی علاقے میں کی گئیں۔ایرانی پاسداران سے منسلک بحریہ نے قائم اور الماس نامی میزائلوں کا مشقوں میں استعمال کیا۔ ان میزائلوں کے استعمال میں مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی بھی بروئے کار رکھی گئی ہے۔ یہ بات سرکاری ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز رپورٹ کی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ان میزائلوں کا استعمال مہاجر چھ اور ابابیل پانچ ڈرونز کے ساتھ کیا گیا ہے۔
جنگی مشقوں کے دوران میزائلوں کے مصنوعی ذہانت کے ساتھ استعمال کا تجربہ کامیاب رہا اور دشمن کے مفروضہ نشانوں کو کامیابی کے ساتھ ہدف بنا کر تباہ کیا گیا۔واضح رہے ایرانی ساختہ قائم اور الماس دونوں گائیڈڈ میزائل ہیں۔ ان میزائلوں کی تیاری ایرانی فوجی انڈسٹری نے اپنے طور پر کی ہے۔جمعہ کے روز پاسداران انقلاب نے فوجی مشقوں کا آغاز کیا تھا۔
یہ ایران کے مختلف صوبوں خوزستان اور بشہر وغیرہ میں جاری ہیں۔ نیز یہ مشقیں خلیجی سمندر میں بھی کی گئیں۔ یہ صوبے ایرانی تیل کے حوالے سے اہم مانے جاتے ہیں۔ بوشہر میں ایران کا جوہری پاور پلانٹ بھی تعمیر کیا گیا۔بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسری نے ارنا کو بتایا ہے کہ یہ مشقیں ایران کی مختلف قسم کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے کی جارہی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کروز میزائل بھی تیار کر چکا ہے، جو مختلف رینج رکھتے ہیں۔
ان کی رینج 1000 کلو میٹر تک ہے اور یہ مصنوعی ذہانت سے لیس کیا گیا ہے۔واضح رہے ایرانی میزائلوں کی یہ تنصیب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے جو انہوں نے کئی ماہ پہلے متعلقہ حکام کو دی تھیں کی مصنوعی ذہانت سے میزائلوں کو لیس کیا جائے۔ایران میں شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایران جدید ترین میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ ان میزائلوں کے کامیاب تجربے ایران نے 2021 میں شروع کر دیئے تھے۔



