بین الاقوامی خبریں

فلسطینیوں کے امدادی ادارے پر اسرائیلی پابندی تباہ کن ہوگی: اقوام متحدہ

فلسطینیوں کے لیے امدادی ادارے UNRWA پر اسرائیلی پابندی کے اثرات زیر بحث

جنیوا، 29جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)فلسطینیوں کے لیے امدادی ادارے UNRWA پر اسرائیلی پابندی کے اثرات زیر بحث آئے۔اسرائیل نے ایک قانون کے تحت 30 جنوری سے اپنی سرزمین پر اس ادارے کی تمام سرگرمیاں ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارینے منگل کے روز سلامتی کونسل میں کہا کہ اس پر اسرائیل کی جمعرات سے شروع ہونے والی پابندی تباہ کن ہوں گی۔اکتوبرکے ایک قانون کے تحت 30 جنوری سے اسرائیلی سرزمین پر، جس میں مشرقی یروشلم شامل ہے اور جس سے اسرائیل کے الحاق کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، یواین آر ڈبلیو اے کی تمام کارروائیاں اور اسرائیلی حکام کے ساتھ تعلق ختم ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے لیے اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل میں کہا کہ یواین آر ڈبلیو اے لازمی طور پر اپنی تمام سرگرمیاں منجمد کرے اور یروشلم میں اپنے تمام احاطے خالی کر دے جہاں وہ کام کرتا ہے، جن میں ’معالوت دفنہ‘ اور’کفرعقب‘ میں موجود املاک شامل ہیں۔

اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل یواین آر ڈبلیو اے یا اس کی طرف سے کام کرنے والے کسی بھی شخص سے تمام تعاون، بات چیت اور رابطے ختم کر دے گا۔فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے، یو این آر ڈبلیو اے، نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بھی اس کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ کیونکہ وہ فلسطینی علاقوں اور پڑوسی عرب ممالک شام، لبنان اور اردن میں لاکھوں افراد کو امداد، صحت اور تعلیم سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر جنرل فلپ لازرینی نے 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ دو دنوں میں مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں ہماری کارروائیاں رک جائیں گی۔ اس قانون سازی کا مکمل نفاذ تباہ کن ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ یواین آر ڈبلیو اے غزہ میں انسانی امداد کے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جسے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان 15 ماہ کی جنگ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔اقوام متحدہ میں قائم مقام امریکی سفیر ڈوروتھی شی نے سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں، یروشلم میں یواین آرڈبلیو اے کے دفاتر کو بند کرنے کے اسرائیل کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ ٹرمپ کے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ اس قانون پر عمل درآمد روک دے۔شی کا کہنا تھا کہ یو این آر ڈبلیو اے کی جانب سے اسرائیلی قانون کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور یہ کہنا کہ وہ انسانی ہمدردی کے پورے عمل کو روکنے پر مجبور کر دے گا۔

قائم مقام امریکی سفیر نے کہا کہ یواین آر ڈبلیو اے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے کا واحد ذریعہ نہیں ہے اور نہ کبھی رہا ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں دیگر ایجنسیاں جن میں یونی سیف، ورلڈ فوڈ پروگرام، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یو این ڈیولپمنٹ پروگرام شامل ہیں، کام کرتی ہیں۔اقوام متحدہ متعدد بار کہہ چکا ہے کہ یواین آر ڈبلیو اے کا کوئی متبادل نہیں ہے اور بصورت دیگر یہ ذمہ داریاں اسرائیل اٹھائے۔ لیکن اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ یو این آر ڈبلیو اے کا خلا بھرنے کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button