شیرخوار بچے کی سفاک قاتل گھریلو ملازمہ کیلئے سزائے موت کا مطالبہ
فلپائنی ملازمہ نے اپنے آجر کے بچے کو واشنگ مشین میں ڈال کر مار ڈال
کویت سٹی ، 31جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) فلپائنی ملازمہ کے ہاتھوں ایک شیر خوار بچے کے قتل کے واقعے کے بعد کویت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا۔ دوسری جانب کویتی پبلک پراسیکیوشن نے فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلپائنی گھریلو ملازمہ کیخلاف سزائے موت پر عمل درآمد کرے جس نے بچے کو واشنگ مشین میں ڈال کر بے رحمی سے قتل کیا۔کویتی اخبار کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے فلپائنی ملازمہ کے ٹرائل سیشن میں تصدیق کی کہ جرم بہت بھیانک تھا، کیونکہ ملزمہ نے جان بوجھ کر اس سے جان چھڑانے کے لیے بچے کو واشنگ مشین کے اندر ڈال دیا۔
فوجداری عدالت نے استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی ذہنی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے کیس کو میڈیکل کمیٹی کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا، جب کہ ایک کویتی خاندان جس میں بچے کے والدین شامل ہیں اس سانحے پر نڈھال ہیں۔ انہوں کہا کہ وہ بچے کی ہولناک صورت حال کا تصور کرتے ہوئے چونک جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ڈیڑھ سال کے شیر خوار بچے کو زندگی او ر موت کی کشمکش میں دیکھا تھا۔
اس کے انسانی جذبات پر غم کا اثر بچے کی موت کے منظر سے دوگنا ہوگیا، کیونکہ وہ ایک خوفناک انجام سے دوچار ہوا، جسے ایک فلپائنی نوکرانی نے لانڈری کے کمرے میں مار دیا تھا۔یہ واقعہ 27 دسمبر 2024 کو پیش آیا تھا جب ایک فلپائنی گھریلو ملازمہ نے ایک شیر خوار بچے کو واشنگ مشین کے اندر ڈال کر اسے آن کر کے ہلاک کر دیا۔بچے کی چیخیں سن کر والدین کو واقعہ کا پتہ چلا تو وہ اسے بچانے کے لیے بھاگے لیکن وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔ تفتیش سے پتا چلا کہ ملزمہ نے اپنے جرم کا ارتکاب انتقام کی خاطر کیا، کیونکہ وہ گھر میں کام نہیں کرنا چاہتی تھی۔ا



