سرورققومی خبریں

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے صدر مرمو کا خطاب,حکومت خواتین کی قیادت میں ملک کوخود کفیل بنانے میں یقین رکھتی ہے: صدر جمہوریہ ہند

راشٹرپتی بھون کا کانگریس لیڈروں کے بیان پر سخت’ ردعمل

نئی دہلی،31جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان جمعہ کو پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس شروع ہوا۔ اس دوران صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کو ترقی یافتہ ہندوستان کا پیغام دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پریاگ راج مہاکمبھ میں پیش آنے والے حادثے پر دکھ کا اظہار کیا۔ صدر نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔اپنے خطاب میں صدر مرمو نے کہا کہ مجھے پارلیمنٹ کے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ابھی دو ماہ قبل ہم نے آئین کو اپنانے کی 75 ویں سالگرہ منائی تھی اور ابھی چند دن پہلے ہندوستانی جمہوریہ نے بھی اپنا 75 سال کا سفر مکمل کیا۔ یہ موقع جمہوریت کی ماں کے طور پر ہندوستان کی شان کو نئی بلندیاں دے گا۔

آج میری حکومت بے مثال کامیابیوں کے ذریعے ہندوستان کی ترقی کے سفر کے اس امرت کال کو نئی توانائی دے رہی ہے۔تیسری مدت میں تین گنا تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے۔ آج ملک بڑے فیصلوں اور پالیسیوں کو غیر معمولی رفتار سے نافذ ہوتے دیکھ رہا ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ تین کروڑ اضافی خاندانوں کو نئے مکان فراہم کرنے کے لیے پردھان منتری آواس یوجنا کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے لیے 5 لاکھ 36 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ آدی باسی سماج کے پانچ کروڑ لوگوں کے لیے ترقی کی مہم شروع کی گئی ہے۔ اس کے لیے 80 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔

آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے چھ کروڑ بزرگ شہریوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہیں ہر سال 5 لاکھ روپے کا ہیلتھ کور ملے گا۔ انہوں نے کہا، ‘میری حکومت نے نوجوانوں کی تعلیم اور ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہونہار طلبہ کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے پی ایم ودیا لکشمی یوجنا شروع کی گئی ہے۔ ایک کروڑ نوجوانوں کو ٹاپ 500 کمپنیوں میں انٹرن شپ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کی قیادت میں ملک کو بااختیار بنانے یعنی خواتین کی قیادت میں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔

ناری شکتی وندن ایکٹ کے ذریعے لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن کے تحت 91 لاکھ سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپس کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ ملک کی 10 کروڑ سے زیادہ خواتین اس سے جڑی ہوئی ہیں۔ بینک لنکیج کے ذریعہ ان میں کل 9 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ہماری بینکنگ اور ڈی جی پیمنٹ ساکھیاں دور دراز علاقوں کے لوگوں کو مالیاتی نظام سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کرشی ساکھیاں قدرتی کھیتی کو فروغ دے رہی ہیں اور پشو ساکھیوں کے ذریعے ہمارے مویشی مضبوط ہو رہے ہیں۔ آج ہمارے نوجوان اسٹارٹ اپس سے لے کر کھیلوں تک ہر میدان میں ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔ مائی بھارت پورٹل کے ذریعے لاکھوں نوجوان قوم کی تعمیر کے کام میں شامل ہو رہے ہیں۔صدرجمہوریہ ہند نے کہا کہ میری حکومت قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے طلباء کے لیے جدید تعلیمی نظام تیار کر رہی ہے۔ تاکہ کوئی تعلیم سے محروم نہ رہے، مادری زبان میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

13 ہندوستانی زبانوں میں بھرتی کے مختلف امتحانات منعقد کرکے زبان کی رکاوٹوں کو بھی دور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ٹیموں نے ہر جگہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، چاہے وہ اولمپکس ہوں یا پیرا اولمپکس۔ حال ہی میں ہندوستان نے شطرنج کی عالمی چمپئن شپ میں بھی اپنا جھنڈا لہرایا ہے۔فٹ انڈیا موومنٹ چلا کر ہم بااختیار نوجوان طاقت پیدا کر رہے ہیں۔ صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہندوستان کے تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے انڈیا اے آئی مشن شروع کیا گیا ہے۔

راشٹرپتی بھون کا کانگریس لیڈروں کے بیان پر سخت’ ردعمل ‘: کانگریسی لیڈران کے تبصرے سے اعلیٰ عہدے کے وقار کو پہنچی ٹھیس

نئی دہلی،31جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راشٹرپتی بھون نے صدر جمہوریہ ہند پر کئے گئے ریمارکس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب پر میڈیا میں کانگریس پارٹی کے کچھ سرکردہ لیڈروں کے تبصروں سے اعلیٰ عہدے کے وقار کو واضح طور پر ٹھیس پہنچی ہے۔ ان کے ایسے بیانات ملک کے پہلے شہری کے وقار کے مطابق نہیں ہیں۔اس لیے ان کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کانگریس لیڈروں نے کہا تھا کہ صدرجمہوریہ ہند تقریر کے اختتام پر بہت تھک گئی تھیں،اور بمشکل بولنے کے قابل تھیں۔ راشٹرپتی بھون یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔ صدر جموریہ خطاب کے دوران کبھی تھکی ہوئیں نظر نہیں آئیں۔ راشٹرپتی بھون کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے اس بیان میں کانگریس لیڈروں کے بیانات کو اعلیٰ عہدے کے وقار کی توہین قرار دیا گیا ہے۔

صدر جمہوریہ ہند کے دفتر کا ماننا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ان لیڈروں نے ہندی جیسی ہندوستانی زبانوں کے محاورات اور گفتگو کو ٹھیک سے نہ سمجھا ہو اور غلط تاثر قائم کیا ہو۔ کسی بھی صورت میں، اس طرح کے تبصرے انتہائی مایوس کن اور افسوسناک ہیں۔ ان سے مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا۔ لیکن اس طرح کے بیانات کسی بھی زاویے سے قابل قبول نہیں ہیں۔خیال رہے کہ آج پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے آغاز میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کی رہنما اور راجیہ سبھا کی رکن سونیا گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہر صدر جمہوریہ ہندکے خطاب کو ناقص قرار دیا، جب کہ کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی صدر کے خطاب کو مایوس کن قرار دیا۔

وہیں بی جے پی نے بھی اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کانگریس لیڈروں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے کہا کہ میں اور بی جے پی کا ہر کارکن سونیا گاندھی کی طرف سے صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ایسے الفاظ کا جان بوجھ کر استعمال کانگریس پارٹی کی غریب مخالف اورآدی باسی مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کانگریس صدر اور ہندوستان کی قبائلی برادریوں سے غیر مشروط معافی مانگیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button