گرفتاری کا خوف سے نیتن یاہو کے طیارے نے واشنگٹن کیلئے اپنایا خصوصی روٹ
گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا بیرونی دورہ ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس،4فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی اخبار معاریف کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے طیارے نے امریکی دار الحکومت واشنگٹن پہنچنے کے لیے خصوصی روٹ اختیار کیا۔اس کی وجہ ان ممالک کی فضائی حدود سے اجتناب تھا جو نیتن یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔نیتن یاہو اتوار کے روز واشنگٹن پہنچے تھے۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مشرق وسطی کے لیے ان کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف سے الگ ملاقاتیں کریں گے۔اس دوران میں غزہ میں فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات پر تبادلہ خیال بھی ہو گا۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کل منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ہو گی۔
تل ابیب سے روانگی سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے بتایا تھا کہ ملاقات میں اہم امور پر بات چیت ہو گی۔ ان میں حماس کیخلاف فتح، غزہ میں اسرائیلی اسیروں کی رہائی اور ایرانی دہشت گردی کے محور کے ساتھ نمٹنا شامل ہے۔واضح رہے کہ 21 نومبر 2024 کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرایئلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا بیرونی دورہ ہے۔ ان دونوں شخصیات پر غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کیخلاف جنگی اور انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے 19 جنوری 2025 تک امریکی حمایت سے غزہ کی پٹی میں اجتماعی نسل کشی کا ارتکاب کیا۔ اس جنونی اور وحشیانہ عمل میں 1.59 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ ان کے علاوہ 14 ہزار سے زیادہ افراد لا پتہ ہیں۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے فلسطینیوں کو پڑوسی ملکوں میں دھکیل دینے کے منصوبے کو غزہ سے فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کا منصوبہ قرار دیا ہے۔ یہ بات ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک بیان میں کہی ہے۔ایرانی ترجمان نے کہا ‘ بین الاقوامی برادری کو فلسطینیوں کو اس نسلی تطہیر سے بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہییں اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کے بجائے ان کا حق خود ارادیت دلوانا چاہیے۔
فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کا منصوبہ ان کی نسلی تطہیر کے مترادف منصوبہ ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کا یہ منصوبہ ایک نوآبادیاتی نظام کا تسلط ہوگا۔ترجمان نے کہا کسی اور فریق کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں کہاں رہنا ہے۔ یہ فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں کہاں رہنا ہے۔واضح رہے ایران نے اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ نہ ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ بلکہ اسرائیل اور ایران دونوں ایک دوسرے کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔



