بین الاقوامی خبریںسرورق

ڈھاکہ: مشتعل ہجوم کی آگ زنی ،بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا گھر منہدم

یہ وہی گھر ہے جہاں 1975 میں شیخ مجیب کو قتل کر دیا گیا تھا

ڈھاکہ ،7فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بنگلہ دیش میں سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان کا گھر نذرِ آتش کر دیا ہے جس کے بعد اب اسے بھاری مشینری کے ذریعے گرایا جا رہا ہے۔دارالحکومت ڈھاکہ میں مشتعل ہجوم نے شیخ حسینہ کے ایک آئن لائن خطاب کے بعد شیخ مجیب کے گھر دھاوا بولا،وہاں توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی۔اس مکان کو دھان منڈی کا گھر نمبر 32 کہا جاتا ہے اور یہ وہی گھر ہے جہاں 1975 میں شیخ مجیب کو قتل کر دیا گیا تھا۔بعد ازاں ان کی صاحبزادی شیخ حسینہ نے اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا۔

شیخ حسینہ نے اپنی جماعت عوامی لیگ کے حامیوں سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہا کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ چھ ماہ میں جنگِ آزادی کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کے بقول ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان نے بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد 1972 سے ڈھاکہ کے علاقے دھان منڈی میں اپنی رہائش گاہ سے ملک کا انتظام چلایا تھا۔ وہ کسی سرکاری عمارت میں نہیں رہتے تھے۔

آڈیو خطاب میں شیخ حسینہ نے کہا کہ ہم ذاتی طور پر کبھی بھی دھان منڈی کے گھر نمبر 32 میں نہیں رہے کیوں کہ اسے میوزیم بنا دیا گیا تھا۔ یہاں دنیا کے کئی سربراہِ مملکت آ چکے ہیں۔ اس گھر کو کیوں گرایا جا رہا ہے، اس گھر کا کیا جرم ہے؟واضح رہے کہ شیخ حسینہ کے خطاب سے قبل ان کی سیاسی جماعت کے طلبہ ونگ ’چھاترا لیگ‘ نے اعلان کیا تھا کہ آج شیخ حسینہ آن لائن خطاب کریں گی۔

اس اعلان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر دھان منڈی 32 کی جانب ’بلڈوزر جلوس‘ کے اعلانات سامنے آنے لگے تھے۔خبر کے مطابق شیخ مجیب کے گھر کو’بنگابندھو میموریل میوزیم‘ کا نام دیا گیا تھا جب کہ مقامی افراد بنگلہ زبان میں اسے ’بنگا بندھو بھابن‘ بھی کہتے تھے۔ دھان منڈی 32 کے قریب موجود صحافیوں نے بتایا کہ ہجوم کی جانب سے مسلسل نعرے بازی کی جا رہی تھی اور اس دوران سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت ’عوامی لیگ‘ پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا۔

دھان منڈی پولیس اسٹیشن کے حکام نے بتایا کہ مشتعل افراد کے ایک گروہ نے دھان منڈی 32 کے ایک گھر کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ تاہم یہ معاملہ کب پیش آیا اور اس کا درست وقت بتانا ممکن نہیں۔شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والی طلبہ تحریک کے کنوینر حسنات عبد اللہ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش آج فسطائیت کی زیارت گاہ سے آزاد ہو جائے گا۔دھان منڈی کے قریب موجود کئی دکان داروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شام کے پانچ بجے سے اس مقام پر مختلف علاقوں سے مختلف عمر کے افراد جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

مقامی افراد کے مطابق پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار اس مقام پر موجود تھے جنہوں نے مشتعل ہجوم کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔حکام کے مطابق فائر سروس کو دو مقامات پر آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جسے بجھانے کے لیے عملہ روانہ ہوا لیکن ہجوم نے آگ بجھانے والی گاڑیوں کو راستے میں روک لیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button