غزہ کی پٹی کے ساحلوں کے لیے ٹرمپ کا داماد کیا خواب دیکھ رہا ہے؟
ٹرمپ نے پراپرٹی سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے غزہ کے بارے میں بات کی
واشنگٹن،7فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں تجویز پیش کی تھی کہ غزہ کی پٹی کو فلسطینیوں سے خالی کرا کر اسے امریکہ کے زیر کنٹرول ایک بین الاقوامی ساحلی سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس طرح کی تجویز کا عندیہ ٹرمپ کے داماد گیرڈ کوشنر تقریبا ایک برس پہلے دے چکے ہیں۔ٹرمپ کی اس تجویز پر فلسطینیوں کے علاوہ عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نسلی تطہیر ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر قانونی اقدام ہوگا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے پراپرٹی سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے غزہ کے بارے میں بات کی۔ اس سے پہلے اکتوبر 2024 میں وہ ایک ریڈیو انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر غزہ کی درست طریقے سے تعمیر نو کی جائے تو یہ ’’موناکو‘‘ سے بہتر جگہ بن جائے گی۔اس سے پہلے ایوانکا ٹرمپ کے شوہر اور پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے گیرڈ کوشنر نے 15 فروری 2024 کو ہاورڈ یونیورسٹی میں ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر لوگ رہائش اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کریں تو غزہ میں سمندر کے مقابل واقع املاک بہت قیمتی ہیں۔ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت سے قبل خود کوشنر نیویارک میں ایک پراپرٹی ڈیولپر تھے۔
فلسطینیوں کے لیے غزہ کو ایک ساحلی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی بات جو کہ خارج از امکان نظر آتی ہے، انھیں 1948 کی جنگ اور اسرائیل کے قیام کے بعد کے المیے کی یاد دلاتی ہے جب 7 لاکھ فلسطینیوں کو فرار ہونے یا اپنے گھروں کو چھوڑ جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ غزہ میں مشرق وسطیٰ کا ریویرا قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے ویژن پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے گا۔ غزہ میں امور کی زمام ابھی تک حماس تنظیم کے پاس ہے۔
غزہ میں زمینوں کی ملکیت عثمانی دور کی حکمرانی، برطانوی سامراجی اور اردنی قوانین کی بنیاد پر ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کے مخصوص رواج بھی اس میں شامل ہیں جنہیں بعض اوقات سابقہ قانونی نظاموں کی دستاویزات کے ذریعے سہارا ملتا ہے۔ اس وقت غزہ میں غیر ملکیوں کے لیے زمین خریدنے پر سخت پابندیاں ہیں۔



