بین الاقوامی خبریںسرورق

سیزرین سیکشن حرام ہے،حیران کن فتوے سے مراکش میں ہنگامہ آرائی

خواتین کے لیے سیزرین سیکشن کرا کر بچے کو جنم دینا منع ہے۔

رباط،7فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مراکش میں سوشل میڈیا پر ایک نئے فتوے کی دھوم مچ گئی۔ اس فتوے سے پورے ملک میں شدید انتشار پھیل گیا ہے۔ ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا جس میں پوڈ کاسٹ پر ایک مہمان کو سیزرین سیکشن کرنے کی ممانعت کے بارے میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔خاتون نے اپنا تعارف ایک نفسیاتی مشیر اور دایہ کے طور پر کرایا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے سیزرین سیکشن کرا کر بچے کو جنم دینا منع ہے۔ انہوں نے ٹیٹوز کی ممانعت کے فتوے جیسی مثالوں کی طرف بھی اشارہ کیا جسے انسانی جلد پر معمولی اور سطحی تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے کاسمیٹک سرجری کی مثال بھی دی۔ ان مثالوں سے تائید حاصل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نومولود کو ہٹانے کے لیے پیٹ کا چیرا لگانا بھی ان مثالوں کے مترادف ہے۔جیسے ہی یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر پھیل گیا تو اس نے لوگوں اور اور ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا۔

رباط کی فیکلٹی آف میڈیسن کے شعبہ امراض نسواں کے پروفیسر ڈاکٹر خالد فتحی نے کہا کہ سیزیرین سیکشن خوبصورتی کے لیے نہیں کیا جاتا اور خواتین اسے قبول کر سکتی ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ درد زہ سے بچنے کے لیے یہ سب سے مشکل گھنٹے ہوتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو میں کہا کہ سیزرین سیکشن پر پابندی لگانا غلط ہے کیونکہ یہ پلاسٹک سرجری کے زمرے میں بالکل نہیں آتا۔ایک متعلقہ سیاق و سباق میں سکرات پریفیکچر کی مقامی سائنسی کونسل کے سربراہ حسن سجنفل نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ کہ فتویٰ ایک ایسا کام ہے جسے صرف وہی لوگ بہتر انجام دے سکتے ہیں جو شرعی علوم سے واقف ہوں اور وہ ترجیحی شواہد سے شرعی احکام اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور وہ لوگوں اور حالات کی حقیقت سے بھی واقف ہوں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سائنس کی ترقی لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے میں معاون ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب ضروری ہو تو حاملہ عورت کا سیزرین سیکشن کرانا جائز ہے۔

یاد رہے سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی ایک بڑی تعداد نے اس فتوے پر ردعمل کا اظہار کیا۔ بہت سے افراد نے خاتون کا مذاق بھی اڑایا اور کہا کہ خاتون کی بات کو سائنسی یا فقہی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اسپیکر کو مبصرین کی طرف سے بھی شدید حملے کا نشانہ بنایا گیا جنہوں نے اسے فتویٰ دینے کے بجائے کچن میں رہنے کا کہا۔ بعض افراد نے خاتون کی بات کو بکواس بھی قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button