
کیوں آتی ہے کھانسی
کھانسی کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ کچھ اچانک شروع ہوتی ہیں اور ایک دو دن میں ٹھیک ہوجاتی ہیں، کچھ کئی کئی ہفتوں تک جاری رہتی ہیں۔ ایک بلغمی کھانسی ہوتی ہے جس میں بہت زیادہ بلغم اور ریزش خارج ہوتی ہے۔ جبکہ خشک کھانسی میں بلغم بہت کم یا بالکل بھی نہیں نکلتا لیکن اس کی آواز بہت تکلیف دہ اور تیز ہوتی ہے۔
خشک کھانسی کا سبب انفکیشن یا نزلے کے سبب خارج ہونے والا مواد فضا میں موجود کیمیکلز، سانس کی نالی میں کوئی خارجی چیز یا گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔ جس میں گلاتنگ ہوجاتا ہے۔ بلغمی یاتر کھانسی اس وقت ہوتی ہے۔ جب انفیکشن یا الرجی کے باعث پھیپھڑے کی نالیوں میں سوزش ہوجائے۔ رات کے وقت مسلسل کھانسی یا ہر بار نزلہ زکام کے ساتھ ہونے ولای کھانسی جس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوجائے، ممکنہ طورپردمہ ہوسکتاہے۔
علاج ؛
چار بڑے چمچے کی مقدار دھنیا کے بیج ایک فرائنک پین میں براؤن کرلیں پھر اسے چارکپ پانی میں ادرک کے چار کٹے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ اس وقت تک ابالیں کہ پانی دوکپ رہ جائے۔ اس کے بعد اسے چھان لیں اوروقفے وقفے سے پئیں۔
شہد ملا کر لہسن کا شربت تیار کریں۔ اس کے پینے سے انفکیشن ختم ہونے کے علاوہ خون کی صفائی بھی ہوگی۔
٭رائی یا سرسوں کے بیج کے سفو میں تھوڑا سا پانی ملا کر لیپ تیار کریں اوراسے سینے پر لگائیں، کھانسی میں آرام ملے گا۔
٭اسی طرح پیاز کو بھون کر اس کی لیپ بنائیں اور اسے نیم گرم کے سینے پر لگائیں یا پیاز کی یخنی بنا کر پئیں تو بلغم خارج ہوگا اور جکڑا ہوا سینہ ڈھلا ہوگا۔
٭شہد میں لیموں کارس ملا پینے سے کھانسی کم ہوگی اور شفایابی کی رفتار تیز ہوگی۔
٭سادی چائے میں پودینہ کے پتوں کو جوش دیکر پینے سے بھی کھانسی میں فائدہ ہوتاہے۔
٭جڑی بوٹیوں والی چائے میں اگر ملیٹھی کی جڑ کو بھی پانی سے نرم کرکے شامل کیا جائے تو مفید ہے۔
٭خش کاور گلے میں خراش ڈالنے والی کھانسی میں افاقے کیلئے سونف اور جنگلی چیری کی چھال کو ابال کرپئیں۔
٭کھولتے ہوئے پانی میں یوکلپٹس آئل کے چند قطرے ڈال کر اگر بھاپ بذریعہ سانس اندر لی جائے تو بھی افاقہ ہوتا ہے۔
٭لوبان یا صندل کی لکڑی کی لیپ تیار کرکے سینے اور پیٹھ پر مالش کریں۔
٭درختوں سے حاصل ہونے والی ایک اور گوند سے بنایا ہوا تیل بلغم کے اخراج میں مدد کرتا ہے۔مختلف قسم کی کھانسی میں ہومیوپیتھک کی جو دوائیں کار گر ہوتی ہیں ان میں پلساٹیلا، اینٹ، رومیکس، برالونیا ، فاسفورس، ڈروسیرا، کیمومیلا شامل ہیں تاہم ان کو معالج کے مشورے سے اور ان کی مقررہ خوراک کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔
احتیاط ؛اگر کھانسی دس دن سے زیادہ برقرار ہے یا اس کے ساتھ بخار، سانس لینے میں دشواری ہونٹ نیلے پڑجائیں، غنودگی اور بولنے میں دشواری ہورہی ہو تو ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔



