شاعری

غزل

✍️ نگار فاطمہ انصاری

غزل

موج کی ساز میں ایک نئی تدبیر کی ہے
اس بار دل نے خود اپنی قسمت تحریر کی ہے

جل کے رہ گۓقلب و جگر راہ عشق میں
گویا کہ میری ہستی بھی میر کی ہے

اے جان جاں اب تیرا انتظار بھی آب حیات
یو جو آنے میں تو، نے ہر بار تاخیر کی ہے

بخت سیاہ پے پھر آنے والی ہے ہجر کی آفت
اس بار شیخ نے میرے خواب کی تعبیر کی ہے

اور یو تو دنیا میں کوئی بھی کافر نہیں آتا
یہاں ہر کسی نے اپنے خدا کی خود تعمیر کی ہے !

✍️ نگار فاطمہ انصاری


غزل
✍️نگار فاطمہ انصاری

وہ شوخ پا عجب شوق میں مبتلا ہے
اس کو خبر نہیں کسی کا گھر جلا ہے؟

ناز نہ کر یو اپنے ٹھکراۓ ہوۓ دلوں پر
جس کو تو نہ ملا اس کو سارا جہاں ملا ہے!

سارے غم و شدت ہار گۓ اب تو
ایک تیرا غم ہی فقط مدتوں پلا ہے

اے ستمگر لے اب ہم بیمار ہو چلے
اس میں تیرے ساتھ ڈاکٹر کا بھی بھلا ہے

اب کیا رنج و غم کیا وصال اے آرزو ؟
تجھ کو کھویا تو جاکر خدا ملا ہے!


غزل
✍️نگار فاطمہ انصاری

رنگت اس کے چہرے کی یقین اڑھی ہوگی
داستان_ اے_ تباہی جب اس نے میری پڑھی ہوگی

کتنے ہی زخم پھر سے جی اٹھے ہونگے
حسب معمول جب وہ دروازے پے کھڑی ہوگی

سنگ دل اس کی آنکھوں میں لہو ابلتا ہوگا
جب تجھے چھوڑ کر وہ آگے بڑھی ہوگی

لمحہ لمحہ اضطراب میں گزر رہے ہیں اب
تعزیز عشق کی جلا دی کوئی تو وہ گھڑی ہوگی

خاموشیوں کی قید میں زہر نایاب
وہ بہادری کی مثال ،شب ہجر میں رو پڑی ہو گی


غزل
✍️نگار فاطمہ انصاری

یہ ترک محبت مٹانے کے لیے ہے
شمع پروانے کو جلانے کے لیے ہے

طنز آمیز ہے اس کا انداز گفتگو
چارہ گر بھی ستم ڈھانے کے لیے ہے

نگاہ تغافل اب گوارہ نہیں اب مجھ کو
جان جاتی ہے تو جائے ،جان تو جانے کے لیے ہے

ہم نہیں محبت میں مکر جانے والے
تیار ضبط کی ہر قسم اٹھانے کے لیے ہے

بلبل کے شور سے ہے چمن میں رونقے
او زمانہ ان کو اڑانے کے لیے ہے ۔


آہ تشنگی
✍️نگار فاطمہ انصاری

ہم نے جب بھی تجھے بھولنا چاہا
بدلتے موسموں میں
سنہری دھوپ کی کرڑوں میں
سرد آہوں میں
موسیقی اور دھند میں
تم یاد آۓ
کئی صداۓ بھرے دل پاس آۓ
کئی منت کش لب سوکھ گۓ
دل ناداں کو جب سے تیرا روٹھ جانا راس آیا
سو اب یوں ہے کہ تجھ کو یاد کرتے ہیں تو
اشک اہل درد کے موتی پرو جاتے ہیں
لیکن دعا ہے کہ تیری روح کو تسکین ملے
ہم نہ ملے اس جہاں میں تو کیا غم؟
ممکن ہے کہ اگلے جہاں میں کہیں ملے!
کبھی جو پوچھے کوئی حال تیرا مجھ سے
میں خاموش رہوں اور اس کو جواب نہ ملے؟
اے حسین تتلیوں کے دلوں کے مسافر
تجھ کو مکمل جہاں
نہ ملے تو کوئی ہم سا نہ ملے!

متعلقہ خبریں

Back to top button