بل گیٹس کا مائیکرو سافٹ کے لیے یونیورسٹی کو چھوڑنے پر افسوس کا اظہار
بل گیٹس جیسا کامیاب شخص ہارورڈ میں اپنی ڈگری مکمل نہ کرنے پر پچھتاوا۔
واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)زندگی میں کامیابی کے معیار ایک سے دوسرے شخص سے مختلف ہوتے ہیں لیکن کامیاب ترین لوگوں کو بھی بعض چیزوں پچھتاوا ہوتا ہے اور حساب مختلف ہو سکتا ہے۔ بل گیٹس جنہوں نے کم عمری میں ہی حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں اور اپنی دیو ہیکل کمپنی مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی ۔ اس کمپنی کی مالیت 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ایسی کمپنی کے مالک بل گیٹس نے ایک چونکا دینے والی رائے کا اظہار کیا ہے۔گیٹس نے مائیکرو سافٹ کے بانی بننے کا انتخاب اس وقت تک ملتوی کیے رکھا جب تک وہ اپنی تعلیم مکمل کی کوشش کرتے رہے۔ جب گیٹس 20 سالہ ہارورڈ انڈر گریجویٹ تھے تو انہوں نے کالج میں بہت اچھا وقت گزارا۔ انہوں نے سافٹ ویئر کمپنی شروع کرنے کے فیصلے کے ساتھ سخت جدوجہد کی۔
1975 میں اپنے ہائی سکول کے دوست پال ایلن کے ساتھ مائیکروسافٹ شروع کرنے کے بعد بل گیٹس اب بھی اپنی ڈگری مکمل کرنے کے لیے ہارورڈ واپس جانا چاہتے تھے۔ہائی اسکول میں گیٹس اور ایلن نے پیش گوئی کی تھی کہ مائیکرو پروسیسر – چھوٹے کمپیوٹر چپس – آخر کار بھاری مہنگے کمپیوٹرز کو چھوٹی سستی مشینوں میں تبدیل کر دیں گے۔ اور کمپیوٹر ہر کسی کے لیے قابل رسائی ہوجائیں گے۔ایلن اور گیٹس کو جلد ہی یقین ہو گیا تھا کہ وہ ایک نئی صنعت میں سب سے آگے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر وہ تیزی سے آگے نہیں بڑھتے ہیں، تو کوئی اور ان سے آگے نکل سکتا ہے۔
گیٹس کو ہارورڈ کا سخت فکری ماحول پسند تھاجہاں وہ بہت سے موضوعات کے بارے میں گہرائی سے سیکھ سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ انہوں نے اپنے پہلے سال کا بیشتر حصہ مائیکروسافٹ میں گزارا جو نیو میکسیکو میں تھا۔ جہاں مائیکروسافٹ ابتدائی طور پر ایک بیڈ روم میں قائم کی گئی تھی۔
گیٹس نے مائیکروسافٹ کو دور سے چلانے کی کوشش کی اور 1976 میں دو مزید سمسٹروں کے لیے ہارورڈ واپس آئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے مائیکروسافٹ کے ابتدائی پروگرامر ریک ویلینڈ ، جو ان کے ایک اور ہائی سکول کے دوست تھے، کو چیزوں کا چارج سنبھالنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش بھی کی تھی تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔
گیٹس نے لکھا کہ اس کے بجائے ویلینڈ گریجویٹ سکول کے لیے روانہ ہوگئے پھر آخر کار میں سکول چھوڑ کر لاس اینجلس جانے سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے مائیکروسافٹ واپس آیا۔ یاد رہے ویلینڈ کا انتقال 2006 میں 53 سال کی عمر میں ہوا تھا۔ گیٹس نے بتایا کہ انہوں نے کبھی کالج کی ڈگری حاصل نہیں کی اور 2000 میں استعفیٰ دینے تک مائیکروسافٹ کے پہلے سی ای او کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تب تک کمپنی نے کمپیوٹر انڈسٹری میں انقلاب برپا کر دیا تھا اور اپنے شریک بانی کو ارب پتی بنا دیا تھا۔ آج مائیکروسافٹ کی مالیت 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
گیٹس نے اس بات پر بحث کی ہے کہ وہ کالج چھوڑنے میں کیوں ہچکچا رہے تھے۔ اس لمحے جب انہوں نے محسوس کیا کہ مائیکروسافٹ مزید انتظار نہیں کر سکتا تو انہوں نے تعلیم چھوڑ دی۔انہوں نے کہا یہاں تک کہ کامیاب ترین لوگوں کے لیے بھی زندگی اکثر آپ کو مشکل انتخاب دیتی ہے اور آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔
میگزین کے سرورق پر Altair کمپیوٹرز کی تصویر بل گیٹس کو بتا رہی تھی کہ انہیں اب فیصلہ کرنا ہے یا تو اپنا پروجیکٹ شروع کریں تاکہ موقع ضائع نہ ہو، یا ہارورڈ میں اپنی تعلیم مکمل کریں اور اس خواب کو ترک کردیں۔گیٹس نے کہا کہ مجھے ہارورڈ میں پڑھنا بہت اچھا لگا۔ خاص طور پر نفسیات، معاشیات اور تاریخ کے کورسز بہت پسند تھے۔ میں اپنے ارد گرد تیزطرار لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بہت دلچسپ چیزوں کے بارے میں بات کر سکتا تھا۔
گیٹس خود کو کافی سماجی نہیں قرار دیتے ہیں تاہم ان کے کافی دوست تھے جنہوں نے انہیں آرام دہ محسوس کیا۔ گیٹس نے کہا میں کسی حد تک جنونی زندگی گزار رہا تھا اور بہت کچھ سیکھ رہا تھا۔ تو میں نے اس سال تعلیم چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔گیٹس نے CNBC کو بتایا کہ مجھے ناگزیر کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے اور یونیورسٹی چھوڑنی پڑی۔ دوسری طرف گیٹس نے آج کے نوجوانوں کو سکول نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا اور کہا میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ غیر معمولی ہے اور اسے معمول نہیں سمجھا جانا چاہیے۔



