پاسپورٹ کیلئے نئے قواعد،2023ء کے بعد پیدا ہونے والوں کیلئے برتھ سرٹیفکیٹ ضروری
2023ء سے قبل والوں کیلئے ایس ایس سی میمو ، ٹی سی ، پیان ، آدھار ،ڈرائیونگ لائسنس قابل قبول
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اگر آپ کسی بھی وجہ سے بیرونی ملک کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو پاسپورٹ ضروری ہے ، چاہے وہ تعلیم ہو، ملازمت ہو یا کاروبار کیلئے۔ بہت سے ممالک ، پاسپورٹ میں معمولی غلطیوں کی وجہ سے ویزا مسترد کردیتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ، یوروپ اور آسٹریلیا نے قوانین کو مزید سخت کردیا ہے۔ اس کے پیش نظر مرکزی حکومت نے پاسپورٹ کی درخواست کے عمل میں اہم تبدیلیاں لانے کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں۔ حکومت نے پاسپورٹ کی درخواستوں میں تاریخ پیدائش کی اہم تفصیلات کو مزید شفاف بنانے کیلئے نئے اصول لائے ہیں جو یکم اکٹوبر 2023ء کے بعد سے پیدا ہونے والوں کی تاریخ پیدائش کی تصدیق کیلئے ڈیٹ آف برتھ سرٹیفکیٹ کو ہی قبول کیا جائے گا۔
حکومت نے گزشتہ ماہ فروری میں اس کا اعلان کیا تھا۔
گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس پر عمل ہوگا۔ مرکزی حکومت نے پاسپورٹ فارم داخل کرتے وقت برتھ سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیا ہے۔ 1969ء کے برتھ اینڈ ڈیتھ کے مطابق متعلقہ محکمہ؍ دفاتر؍ میونسپل؍ منڈل کی جانب سے جاری کئے جانے والے سرٹیفکیٹس کو ہی درست سرٹیفکیٹس تسلیم کیا جائے گا۔ اب سے تاریخ پیدائش کے ثبوت کیلئے کسی اور ثبوت پر غور نہیں کیا جائے گا۔
دیہی علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کے پاس تاریخ پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ پاسپورٹ کی درخواستوں کے دوران یہ مسئلہ بنتا جارہا ہے جس کی وجہ سے نئے قوانین متعارف کرائے جارہے ہیں جس کے تحت 2023ء کے بعد پیدا ہونے والے ہر فرد کو برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سال 2023ء سے پہلے پیدا ہونے والوں کیلئے پرانے قانون پر ہی عمل کیا جائے گا۔ فی الحال دسویں کلاس کا میمو، ٹی سی، پیان کارڈ، آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قبول کیا جارہا ہے۔ 2023ء کے بعد پیدا ہونے والوں کیلئے برتھ سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔ مرکزی حکومت پاسپورٹ سیوا کیندرا میں مزید اضافہ کرنے پر غور کررہا ہے۔ فی الحال ملک بھر میں 442 پاسپورٹ مراکز ہیں۔ آئندہ پانچ سال میں ان کی تعداد بڑھاکر 600 تک کرنے کا منصوبہ ہے۔



