40 سال سے سادھو کے بھیس میں روپوش عمر قید کا مجرم جنگل سے گرفتار
مجرم راہب کے بھیس میں جنگلوں میں چھپا ہوا تھا۔
اتر پردیش / باندہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پولیس نے ایک حیران کن کارروائی میں 40 سال سے سادھو کے بھیس میں روپوش قتل کے مجرم کو مدھیہ پردیش کے گھنے جنگلات سے گرفتار کر لیا۔ ملزم بابولال، جو باندہ ضلع کے پلہاری گاؤں (بسنڈا تھانہ) کا رہائشی ہے، 1985 میں زمین کے تنازعے پر اپنے پڑوسی کو قتل کرنے کے بعد فرار ہوگیا تھا۔ عدالت نے اسے 1986 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی، مگر وہ ضمانت پر رہائی کے بعد مفرور ہوگیا اور گزشتہ چار دہائیوں سے پولیس کی گرفت سے باہر تھا۔
سادھو کے روپ میں زندگی بسر کر رہا تھا
پولیس کے مطابق، بابولال نے مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع کے پھلہاری آشرم میں سادھو کے طور پر رہنا شروع کر دیا تھا تاکہ قانون کی گرفت سے بچ سکے۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے آشرم پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔
قتل اور سزا کی تفصیلات
- 30 جولائی 1985 کو بابولال نے زمین کے تنازعے میں اپنے پڑوسی کو لائسنس یافتہ بندوق سے گولی مار کر قتل کر دیا تھا، جس میں ایک اور شخص زخمی ہوا تھا۔
- 28 جولائی 1986 کو عدالت نے اسے عمر قید اور 2000 روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔
- بابولال نے ہائی کورٹ سے ضمانت لی، مگر بعد میں فرار ہوگیا۔
- پولیس نے چار دہائیوں تک اس کی تلاش جاری رکھی، مگر وہ مسلسل بچتا رہا۔
آخرکار گرفتاری کیسے ہوئی؟
باندہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ انکور اگروال نے بابولال کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ خفیہ اطلاع پر ستنا ضلع کے پھلہاری آشرم پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے ملزم گرفتار ہوا۔ پولیس نے بابولال کو عدالت میں پیش کر کے دوبارہ جیل بھیج دیا۔
ایس پی انکور اگروال کا کہنا ہے کہ "ملزم بابولال کو 1986 میں عدالت نے سزا سنائی تھی، مگر وہ فرار ہوگیا تھا۔ پولیس کی مسلسل کوششوں کے بعد آخرکار اسے مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع سے گرفتار کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔"



