اسرائیل کا حماس کو سخت پیغام، یرغمالیوں کی رہائی نہ ہوئی تو سنگین نتائج ہوں گے
یرغمالی رہا نہ کیے تو حماس کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، جنگ کی تیاری کر رہے ہیں: نیتن یاہو
تل ابیب :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غزہ میں موجود یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو سنگین اور "ناقابل تصور نتائج” ہوں گے۔
اسرائیلی کنیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا، "میں حماس سے کہتا ہوں: اگر آپ نے ہمارے یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا تو آپ کو ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔”
اپوزیشن سے تلخ جملوں کا تبادلہ
نیتن یاہو کی تقریر کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد سیشن کو پرسکون کرنے کے لیے کنیسٹ کے گارڈز نے کئی نمائندوں کو ایوان سے باہر نکال دیا۔
اسی دوران انکشاف ہوا کہ نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے ایک خفیہ معاہدے پر بات چیت ہوئی تھی۔
جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری
نیتن یاہو نے کہا کہ وہ امریکی حمایت کے ساتھ جنگ کے اگلے مراحل کی تیاری کر رہے ہیں اور غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کا نظریہ "اختراعی” تھا۔ انہوں نے کہا، "وقت آگیا ہے کہ غزہ کے عوام کو علاقے سے نکلنے کا موقع فراہم کیا جائے۔”
ایران اور لبنان کے خلاف بھی سخت مؤقف
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لبنان میں حالیہ بم دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ "یہ کارروائیاں بہترین وقت پر کی گئیں، جنہوں نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کو کمزور کیا۔”
اپوزیشن پر سخت تنقید
نیتن یاہو نے حزب اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ ان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی کر رہی ہے اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے فوجی خدمات سے انکار کرنے کی ترغیب دینے اور "سدیہ تیمان” جیل سے متعلق گمراہ کن ویڈیوز پھیلانے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔



