حیدرآباد :بیوی اور بیٹے نے دوست کے ساتھ مل کر شوہر کا قتل کر دیا
معاشرے میں قتل و غارت کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)معاشرے میں قتل و غارت کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ انسان، جو کبھی محبت، ہمدردی اور خلوص کا پیکر تھا، آج وحشی درندہ بنتا جا رہا ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب اجنبیوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ اپنے ہی اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ حیدرآباد میں پیش آیا تازہ ترین لرزہ خیز قتل بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔
حیدرآباد کے پرانے شہر کے بنڈلہ گوڑہ علاقے میں منگل کے روز ایک خوفناک قتل کی واردات پیش آئی، جس میں ایک رئیل اسٹیٹ تاجر کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
واردات کی تفصیلات
پیر کے روز، کسی خاندانی تنازعے پر مسیح الدین اور شبانہ کے درمیان شدید جھگڑا ہوا تھا۔ منگل کی صبح جب مسیع الدین دوبارہ فلیٹ پر آئے، تو شبانہ، اس کا بیٹا سمیر اور اس کا دوست فرید پہلے سے ہی موجود تھے اور ایک خوفناک منصوبہ تیار کر چکے تھے۔
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso
قتل کی بے رحمانہ سازش
پولیس کے مطابق، پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت، شبانہ اور سمیر نے مل کر مسیع الدین کے ہاتھ پیر چُنی سے پیچھے باندھ دیے،اور آواز دبانے کے لیے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ اس کے بعد، فرید کے ساتھ مل کر اس کا گلا کاٹ کر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔
قتل کے بعد گرفتاری
رات کے وقت، شبانہ، سمیر اور فرید خود بنڈلہ گوڑہ تھانے پہنچے اور قتل کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
قتل کی ممکنہ وجہ
پولیس ذرائع کے مطابق، شبانہ کے مبینہ "غیر ازدواجی تعلقات” قتل کی ممکنہ وجہ ہو سکتے ہیں۔ تفتیش جاری ہے اور پولیس جلد مزید تفصیلات سامنے لا سکتی ہے۔
علاقے میں خوف و ہراس
اس اندوہناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور مقامی لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقتول کے رشتہ داروں اور جاننے والوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی سنگین واردات کا ارتکاب کرنے کی ہمت نہ کرے۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بھیانک مثال ہے، جہاں خونی رشتے بے معنی ہوتے جا رہے ہیں، اور انسان اپنی ہوس، لالچ اور غصے میں اس حد تک گر رہا ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے پیاروں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔



