بین ریاستی خبریںسرورق

اورنگزیب پر بیان، ابو اعظمی کی مہاراشٹر اسمبلی سے معطلی

مہاراشٹر اسمبلی سے معطلی پر ابو اعظمی نے کہا میں قانون کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا'

ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر اسمبلی میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایم ایل اے ابو اعظمی کو مغل بادشاہ اورنگزیب پر  بیان دینے کے باعث پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا۔ بدھ کے روز اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی پارلیمانی امور کے وزیر چندرکانت پاٹل نے ان کی معطلی کی تجویز پیش کی، جسے منظور کر لیا گیا۔بی جے پی ایم ایل اے سدھیر منگنٹیوار نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ابو اعظمی کو محض ایک اجلاس کے لیے نہیں بلکہ مکمل طور پر ایم ایل اے کے عہدے سے برطرف کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چھترپتی شیواجی مہاراج ہمارے لیے انتہائی محترم ہیں اور جو بھی ان کی توہین کرے گا، اسے آسانی سے معاف نہیں کیا جائے گا۔”

متنازعہ بیان اور تنازعہ کی جڑ ابو اعظمی نے حال ہی میں مراٹھا ہیرو چھترپتی سنبھاجی مہاراج پر مبنی فلم ’چھوا‘ میں تاریخی واقعات کی تصویر کشی پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اورنگزیب ایک اچھے منتظم تھے اور ان کے دور میں ہندوستان کو "سونے کی چڑیا” کہا جاتا تھا۔

اعظمی نے مزید کہا، "فلم میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اورنگزیب نے کئی مندر بنوائے، اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ ایک ظالم حکمران تھا۔” شدید مخالفت کے بعد، ابو اعظمی نے اپنے بیان پر معذرت کر لی اور وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

انسٹاگرام پر جاری کردہ ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا، "اگر میرے بیان سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں معذرت خواہ ہوں اور اپنا بیان واپس لینے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے اورنگزیب کے بارے میں وہی کہا جو مورخین اور مصنفین نے لکھا ہے۔ میں نے کسی عظیم شخصیت، بشمول چھترپتی شیواجی مہاراج اور سنبھاجی مہاراج، کے خلاف کوئی توہین آمیز بات نہیں کی۔”یہ معاملہ اب سیاسی اور سماجی سطح پر مزید گرما گرم بحث کا باعث بن رہا ہے، جبکہ اسمبلی میں اس حوالے سے سخت موقف اپنایا جا چکا ہے۔

مہاراشٹر اسمبلی سے معطلی پر ابو اعظمی نے کہا میں قانون کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا’

اسمبلی سے معطل ہونے کے بعد ابو اعظمی نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا:"میں قانون کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا، وہ مجھے اس طرح کیسے ہٹا سکتے ہیں؟ یہ رمضان کا مہینہ ہے، میں روزے سے ہوں اور میری صحت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ میں جلد ہی قانونی مشورہ لوں گا اور انصاف کے لیے جدوجہد کروں گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "بہت سے لوگوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”

سیاسی اور عوامی ردعمل

ابو اعظمی کی معطلی پر سیاسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ لوگ حکومت کے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اسے "سیاسی انتقام” قرار دے رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button