سرورققومی خبریں

راہول گاندھی کو لکھنؤ عدالت میں ساورکر تبصرے پر 200 روپے جرمانہ

عدالت نے راہول گاندھی کو 14 اپریل کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا

لکھنؤ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف، راہول گاندھی، کو لکھنؤ کی ایک عدالت نے 200 روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ جرمانہ ان کے وینایک دامودر ساورکر پر کیے گئے "قابل اعتراض” تبصروں کے مقدمے میں عدالت میں حاضر نہ ہونے پر عائد کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (ACJM) کی عدالت نے راہول گاندھی کو 14 اپریل کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

راہول گاندھی نے اکولا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ویر ساورکر کو برطانوی حکومت کا "ملازم” اور "پنشنر” قرار دیا تھا، جس پر نرپیندر پانڈے نامی شخص نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ راہول گاندھی کی جانب سے وکیل پرنشو اگروال نے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی، جس میں بتایا گیا کہ راہول گاندھی بحیثیت قائد حزب اختلاف مصروف شیڈول کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے۔ تاہم، عدالت نے ان کی غیر حاضری پر 200 روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں 14 اپریل کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button