اسرائیلی فوج کے نئے سربراہ کا اعتراف: حماس کو مکمل شکست نہیں دی جا سکی
حماس ڈٹی ہوئی ہے، جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی
تل ابیب:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیلی فوج کے نئے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بدھ کے روز اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ وہ ہیرتسی ہلیوی کی جگہ عہدہ سنبھال رہے ہیں، جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 کی جنگ کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
اپنی تقرری کی تقریب کے دوران، زامیر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے جنگی میدان میں "بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں” اور کہا، "ہم نے غزہ اور لبنان میں معرکوں میں کامیابی حاصل کی، جبکہ یمن اور ایران میں بھی حملے کیے۔”
تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ "حماس کو شدید نقصان پہنچا ہے، لیکن وہ اب بھی مکمل طور پر شکست نہیں کھا سکی، اور ابھی مشن مکمل نہیں ہوا۔” انہوں نے فوج میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کی طاقت اس کے اتحاد میں مضمر ہے۔
سابق چیف آف اسٹاف ہلیوی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ 7 اکتوبر کے واقعات کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں، لیکن اسے صرف فوج کی اندرونی تحقیقات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی استعفے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا، "اسرائیلی فوج اسرائیل کا دفاع کرنے میں ناکام رہی، اور ملک کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔”
ہلیوی نے مزید کہا، "میں 7 اکتوبر 2023 کے خوفناک ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں، اور یہ بوجھ ہر لمحے میرے ساتھ رہتا ہے۔” تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے کئی محاذوں پر جنگ لڑی اور ایسی کامیابیاں حاصل کیں جو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو بدلنے کا سبب بنی ہیں۔



