
بنگلورو: (اردودنیا.اِن)ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد تہوں والے ماسک کسی شخص کو ہوا میں یا گیس میں تحلیل مائکروذرات یا قطرہ مائع (ایروسولز) کے رابطے میں آنے سے روکنے کے لیے زیادہ موثرہیں۔یہ مطالعہ بنگلورو میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc) کے محققین کی سربراہی میں ایک ٹیم کے ذریعہ کیا گیا تھا۔
آئی آء ایس سی کے مطابق جب کسی شخص کو کھانسی ہوتی ہے تو ، منہ یا ناک سے نکلنے والے قطرے (200 مائکرون سے زیادہ) تیز رفتار سے ماسک کی اندرونی پرت سے ٹکرا جاتے ہیں اورماسک میں گھس جاتے ہیں اور ہوامیں یا گیس میں تحلیل ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح ان میں SARS-COV-2 جیسے وائرس ہوسکتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ٹیم نے اعلیٰ سطح کے کیمروں کے ذریعہ ایک پرت ، دو تہوں اور کئی پرتوں والے ماسک پر کھانسی کرتے ہوئے کپڑے میں گھسنے کے دوران خارج ہونے والے مائع ذرات کے سائز کا مطالعہ کیا۔
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک اور دو پرتوں کے ماسک میں یہ چھوٹی چھوٹی بوندیں ایک سو مائکرون سائز سے کم پائی گئیں اور اس طرح وہ ایروسول بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو انفیکشن پھیلانے کے لیے طویل عرصے تک ہوا میں موجود رہ سکتے ہیں۔



