بین ریاستی خبریںسرورق

تمل ناڈو: نابالغ کی زبردستی شادی اور اغوا، وائرل ویڈیو پر پولیس کی فوری کارروائی

چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

بنگلورو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تمل ناڈو کے ہوسور سے ایک چونکا دینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں ایک 14 سالہ لڑکی کو زبردستی ایک مرد اٹھا کر لے جا رہا ہے، جبکہ اس کے چیخنے اور مدد کی فریاد کرنے کے باوجود ساتھ چلنے والے مرد و عورت اس کی کوئی مدد نہیں کرتے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد چاروں بالغ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

14 سالہ لڑکی کی زبردستی شادی

یہ لڑکی تمل ناڈو کے ہوسور کے قریب تھمتور گاؤں کی رہائشی ہے۔ مقامی اسکول میں ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد، وہ گھر پر ہی رہنے لگی تھی، جیسا کہ اکثر دیہی علاقوں میں ہوتا ہے۔

لیکن 3 مارچ کو اس کے والدین نے اس کی شادی 29 سالہ مزدور مادیش سے کر دی، جو کرناٹک کے پہاڑی گاؤں کالیکٹائی کا رہائشی ہے۔ شادی بنگلورو میں انجام پائی۔

زبردستی لے جانے کی ویڈیو وائرل

گھر واپس آنے کے بعد، لڑکی نے  سسرال جانے سے انکار کر دیا۔  اس نے اپنے والدین اور رشتہ داروں سے اس شادی کو منسوخ کرنے کی التجا بھی کی لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔بعد ازاں، مادیش اور اس کا 38 سالہ بھائی ملیش اسے زبردستی ایک رشتہ دار کے گھر سے اغوا کرکے کالیکٹائی گاؤں لے گئے۔وہاں موجود کچھ لوگوں نے اس پورے واقعے کو اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا، جس سے معاملہ سامنے آیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کارروائی اور قانونی چارہ جوئی

ڈینکانی کوٹّائی کے پولیس اسٹیشن نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ لڑکی کی دادی نے پولیس میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد بدھ کے روز مادیش، اس کے بھائی ملیش اور لڑکی کی ماں ناگما کو گرفتار کیا گیا۔ جمعرات کو لڑکی کے والد اور ملیش کی بیوی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

ملزمان کے خلاف POCSO (بچوں کے تحفظ کا قانون) اور چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو دو سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اس وقت متاثرہ لڑکی اپنے دادا دادی کے ساتھ رہ رہی ہے، جبکہ پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہے اور چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت ایسی شادی کالعدم تصور کی جاتی ہے۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

چائلڈ میرج: بھارت میں سنگین مسئلہ

اگرچہ چائلڈ میرج پر پابندی ہے، لیکن یہ جرم اب بھی ملک کے کئی حصوں میں عام ہے، خاص طور پر راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، بہار اور آندھرا پردیش میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔

سال 2023-24 میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، کرناٹک میں 180 چائلڈ میرج کے معاملات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 105 کو روکا گیا، جبکہ باقی 75 معاملات میں پولیس نے مقدمات درج کیے۔

یہ معاملہ بھارت میں بچوں کے حقوق اور چائلڈ میرج کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button