سرورققومی خبریں
شہزادی کے والد شبیر خان نے گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنی بیٹی کو نہ بچا سکے، نہ ہی اسے آخری بار دیکھ سکے، لیکن اب کم از کم ہم اس کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ دبئی میں شہزادی کے زیر استعمال سامان، بشمول پاسپورٹ اور موبائل، انہیں واپس دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
شبیر خان کے مطابق، بیٹی کی موت کے بعد ان کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے، اور ان کی اہلیہ مسلسل غم کے باعث شدید علیل ہیں۔ "میں نے اپنی بیوی سے وعدہ کیا ہے کہ اسے دبئی لے جاؤں گا تاکہ وہ اپنی بیٹی کی آخری نشانی کو دیکھ سکے، لیکن مالی مشکلات آڑے آ رہی ہیں۔ میں پاسپورٹ بنوانے کی کوشش کر رہا ہوں، اگر کہیں سے مدد ملی تو ہم ضرور جائیں گے،” انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا۔
شبیر خان نے حکومت سے درخواست کی کہ شہزادی کا ذاتی سامان واپس لانے میں ان کی مدد کی جائے۔ "جب ہم دبئی جائیں گے تو فاتحہ خوانی کے بعد اس کا سامان لے کر آئیں گے، انہوں نے شکوہ کیا کہ اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،”۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شہزادی کو دبئی میں کھمبے سے باندھ کر گولی مار دی گئی۔ تاہم، شبیر خان نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ سب جھوٹ اور افواہیں ہیں۔ میری بیٹی کو باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد پھانسی دی گئی اور دبئی میں سپرد خاک کیا گیا۔ وہاں موجود ہمارے ایک عزیز نے بھی تدفین کی تصدیق کی ہے۔”
متاثرہ خاندان کو امید ہے کہ حکومت ان کے دکھ کو سمجھے گی اور دبئی جانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ وہ اپنی بیٹی کی آخری نشانیوں کو دیکھ سکیں اور فاتحہ خوانی کر سکیں۔