کرناٹک میں مسلم ٹھیکیداروں کے لیے ریزرویشن، سدارامیا کابینہ نے تجویز پاس کی
کرناٹک حکومت نے KTPP ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی
بنگلور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کرناٹک کی سدارامیا کابینہ نے مسلمانوں کو سرکاری معاہدوں میں چار فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے کرناٹک ٹرانسپرنسی ان پبلک پروکیورمنٹ (KTPP) ایکٹ میں ترمیم کی تجویز منظور کرلی ہے۔ اس بل کو جاری اسمبلی سیشن میں پیش کیا جائے گا۔
کابینہ کا فیصلہ
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک حکومت نے KTPP ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے تاکہ مسلم ٹھیکیداروں کو سرکاری ٹھیکوں میں چار فیصد کا خصوصی کوٹہ دیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس ترمیمی بل کی توثیق کی گئی۔
اس سے قبل، 7 مارچ کو وزیراعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا تھا کہ سرکاری معاہدوں میں مسلمانوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن مختص کیا جائے گا۔
بی جے پی کا سخت ردعمل
بی جے پی نے سدارامیا کابینہ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ کرناٹک حکومت اقلیتوں کو خوش کرنے کے لیے "متعصبانہ پالیسی” اپنا رہی ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کے بجٹ کو اورنگزیب کی پالیسیوں سے متاثر قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ اکثریتی طبقے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
دیگر کابینہ فیصلے
حکومت نے اس اجلاس میں مزید کئی اہم تجاویز پر غور کیا:
- ہیبل میں محکمہ زراعت کی 4.24 ایکڑ اراضی انٹرنیشنل فلاور آکشن بنگلورو (IFAB) کو دو سال کے لیے بغیر کرایہ کے دی جائے گی۔
- بنگلورو بائیو انوویشن سینٹر میں 96.77 کروڑ روپے کی مالی امداد کی منظوری دی گئی، جو جنوری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد تعمیر نو اور آلات کی تبدیلی کے لیے مختص کی گئی ہے۔
- کرناٹک پبلک سروس کمیشن (KPSC) میں اصلاحات کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دینے اور ممبران کی تقرری کے لیے سرچ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وقف املاک اور مسلم فلاح و بہبود
کرناٹک حکومت نے مسلم برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبے تجویز کیے ہیں، جن میں:
- وقف املاک کی مرمت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری
- مسلم قبرستانوں کے تحفظ کے لیے 150 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بی جے پی کا مزید اعتراض
بی جے پی نے حکومت کے اس فیصلے کو اقلیت نوازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ:کرناٹک میں اقلیتوں کی ترقی کا مطلب صرف مسلمانوں کی ترقی کیوں؟حکومت نے وقف املاک کے تحفظ کے لیے ایسے وقت میں فنڈز مختص کیے جب مرکزی حکومت وقف ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کرنے والی ہے۔بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وقف املاک میں 85,000 ایکڑ زمین پر تجاوزات کے معاملات چل رہے ہیں، ایسے میں یہ اقدام جانبداری کا مظہر ہے۔
حکومت کے اس فیصلے سے سیاسی تنازع پیدا ہو گیا ہے، جہاں کانگریس اسے اقلیتوں کی فلاح و بہبود قرار دے رہی ہے جبکہ بی جے پی اسے امتیازی پالیسی کہہ رہی ہے۔



