سرورققومی خبریں

دہلی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر اپوروانند سے تقرر میں ناانصافی

ڈپارٹمنٹ آف ہندی کے ہیڈ کا تقرر متنازعہ بن گیا، یونیورسٹیز میں مرکز کی مداخلت

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک کے تعلیمی نظام میں مرکزی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے ذریعہ مخصوص ذہنیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اہم عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے۔ ملک کی تعلیمی آزادی اور تہذیب و ثقافت پر حملے کے تحت یونیورسٹیز کے معاملات میں مداخلت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی آف دہلی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کے عہدہ پر تقرر نے تنازعہ اختیار کرلیا۔ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کے عہدہ پر سنیاریٹی کی بنیاد پر تقررات کی دیرینہ روایت ہے لیکن اس مرتبہ حکومت نے ڈپارٹمنٹ کے انتہائی سینئر پروفیسر اپوروانند کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جونیر شخص کو مقرر کردیا۔ گذشتہ دس برسوں میں جے این ٹی یو میں بھی تقررات اور ترقیاں تنازعہ کا شکار رہی ہیں۔ سنیاریٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت کے نظریات کے حامل افراد کو اہم عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے۔

پروفیسر اپوروانند اور دیگر دانشوروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عام طور پر یونیورسٹیز خود مختار ادارہ کے طور پر کام کرتی ہیں لیکن مرکزی حکومت نے یونیورسٹیز کے اُمور میں مداخلت کرتے ہوئے نہ صرف تقررات بلکہ پالیسی فیصلوں میں بھی مداخلت شروع کردی ہے۔ مرکزی حکومت نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے رہنمایانہ خطوط وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ریاستی یونیورسٹیز کے اُمور میں مداخلت کی تیاری ہے۔ دہلی یونیورسٹی کی حالیہ تبدیلیوں نے جمہوریت پسند طاقتوں میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ یونیورسٹیز کے خود مختار موقف کو برقرار رکھنے کیلئے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ حکومت سے سوال کرنے والے پروفیسرس کو منصوبہ بند طریقہ سے عہدوں سے دور رکھا جارہا ہے۔

📌 مزید تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہوں:

🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ

متعلقہ خبریں

Back to top button