بھارت اور نیوزی لینڈ کا دو طرفہ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کا عزم
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کا بھارت کا دورہ، معاشی تعاون پر اہم معاہدے
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے پیر کے روز ملاقات کی، جس میں دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں ممالک نے 10 سال بعد آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دفاع، خوراک کی پروسیسنگ، دواسازی، قابل تجدید توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ لکسن نے کہا کہ ان کی بھارتی قیادت سے ہونے والی بات چیت "انتہائی مثبت” رہی اور اس سے دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ دفاع، معیشت، تعلیم، سیاحت، کھیل اور ثقافت سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
آزاد تجارتی معاہدہ: نیا باب
اتوار کے روز بھارت اور نیوزی لینڈ کے وزرائے تجارت نے آزاد تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت دیگر ممالک کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے کرنے میں مصروف ہے، جن میں یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ بات چیت شامل ہے۔
بھارتی وزارتِ تجارت کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد "متوازن نتائج حاصل کرنا، سپلائی چین کے انضمام کو فروغ دینا اور منڈی تک رسائی کو بہتر بنانا” ہے۔ تاہم، مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
لکسن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ سے معیشت کو مستحکم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی آمدنی میں اضافے میں مدد ملے گی۔
مالی سال 2023-24 میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 1.7 بلین ڈالر رہا۔



