وائٹ ہاؤس کی سخت وارننگ: اسرائیل کے دشمنوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا
وائٹ ہاؤس کی اسرائیلی حملوں پر پیشگی آگاہی
واشنگٹن::(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے منگل کے روز غزہ پر کیے جانے والے وسیع حملوں کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے مشاورت کی تھی۔ ان کے مطابق، امریکی انتظامیہ کو پہلے سے ہی غزہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع تھی۔
ٹرمپ کی سخت وارننگ: "جہنم کے دروازے کھل جائیں گے”
امریکی نیوز چینل فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، کیرولین لیوٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ:"حماس، حوثی، ایران یا جو کوئی بھی اسرائیل یا امریکہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی اور اس پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت معطل ہونے کے بعد ایک بڑے فوجی حملے کا آغاز کیا گیا۔
اسرائیلی حکومت کا جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ
منگل کو علی الصبح غزہ پر ہونے والے شدید اسرائیلی حملے سے کچھ ہی گھنٹے قبل، تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں وزارت دفاع کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اسرائیلی قیادت نے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے تیز کر دیے۔
اسرائیلی اخبار معاریف کے مطابق، نیتن یاہو کو اندرونی سطح پر اپنے اتحادیوں کے دباؤ کا سامنا تھا، جن میں شدت پسند عناصر جنگ بندی ختم کر کے دوبارہ حملے شروع کرنے پر زور دے رہے تھے۔
جنگ بندی کا مطالبہ: اسرائیلی عوام اور قیدیوں کے اہل خانہ کا احتجاج
اسرائیل میں جنگ بندی کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ غزہ میں قید اسرائیلیوں کے اہل خانہ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ بندی برقرار رکھی جائے تاکہ باقی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔
حالیہ سروے کے مطابق، 52% اسرائیلی عوام جنگ کو ختم کرنے کے حامی ہیں، جبکہ نیتن یاہو کو سخت گیر عناصر کے دباؤ کا بھی سامنا ہے، جو فلسطینی علاقوں پر مزید حملے جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔
نتیجہ: خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد، خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے حالیہ حملوں اور



