آسام: این آئی ٹی سلچر کے پروفیسر پر جنسی ہراسانی کا الزام، پولیس نے کیا گرفتار
طالبہ کا الزام: "نمبروں میں اضافے کا لالچ دیا"
سلچر، آسام:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) سلچر کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈی کوٹیشور راجو دھینوکونڈا کو ایک طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ طالبہ نے شکایت میں دعویٰ کیا کہ پروفیسر نے کم نمبروں کے بہانے اسے اپنے چیمبر میں بلایا، نامناسب طریقے سے چھوا اور اسے جنسی طور پر ہراساں کیا۔
طالبہ کا الزام: "نمبروں میں اضافے کا لالچ دیا”
متاثرہ طالبہ نے بتایا۔، پروفیسر نے اسے کہا کہ اگر وہ اس کی بات مانے تو اس کے نمبر بہتر ہو سکتے ہیں۔ "اس نے اچانک مجھے چھونا شروع کر دیا، میری رانوں، پیٹ، گردن اور ہونٹوں کو ہاتھ لگایا اور پیچھے سے پکڑ لیا۔ اس نے میرے جسم کے بارے میں نازیبا گفتگو کی۔ خوش قسمتی سے، اسی لمحے میرے دوست کا فون آیا اور میں کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی،”
طلباء کا احتجاج، پروفیسر کی معطلی
واقعے کے بعد این آئی ٹی سلچر کے طلباء نے رات بھر کیمپس میں احتجاج کیا اور پروفیسر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں، اس سے پہلے بھی اسی پروفیسر کے خلاف شکایت درج ہو چکی ہے۔ احتجاج کے بعد انسٹی ٹیوٹ انتظامیہ نے پروفیسر کو فوری طور پر معطل کر دیا اور ان کا چیمبر سیل کر دیا۔
این آئی ٹی رجسٹرار اشیم رائے نے بیان میں کہا، "متاثرہ طالبہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ محفوظ اور پُرسکون محسوس کرے۔ معاملے کو مزید تفتیش کے لیے اندرونی شکایات کمیٹی (ICC) کو بھیج دیا گیا ہے۔”
پولیس کی کارروائی، پروفیسر گرفتار
کاچھر کے ایس پی نمل مہتا کے مطابق، پروفیسر کو جمعہ کی شام 5:30 بجے گرفتار کیا گیا۔ "پہلے وہ اپنے کوارٹرز کو باہر سے تالا لگا کر چھپنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ہم نے اس کے موبائل فون کی لوکیشن ٹریس کر کے اسے پکڑ لیا،” ایس پی نے بتایا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ پروفیسر 2018 سے این آئی ٹی سلچر میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ 2021 میں، ان پر ایک اور طالبہ کی طرف سے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن ثبوت کی کمی اور شکایت کنندہ کی غیر موجودگی کی بنا پر انہیں بری کر دیا گیا تھا۔



