ناگپور فرقہ وارانہ تشدد: زخمی عرفان انصاری دوران علاج چل بسے
زخمی کی اسپتال میں موت، اہل خانہ نے کارروائی کا مطالبہ
ناگپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مہاراشٹر کے ناگپور میں پیش آئے تشدد کے واقعات کے بعد علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ اس تشدد میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک تھی۔ آج ان زخمیوں میں سے ایک، عرفان انصاری (38 سال)، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
مقتول عرفان انصاری کے بھائی عمران کا کہنا تھا کہ "ہم نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔ ڈاکٹروں نے بھی بہترین علاج فراہم کیا، مگر وہ اسے نہ بچا سکے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ "میرا بھائی عرفان انصاری ایک آٹو رکشہ میں ریلوے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن راستے میں آٹو ڈرائیور نے بتایا کہ وہ آگے نہیں جائے گا کیونکہ حالات خراب ہیں۔”
عمران ثانی نے مزید بتایا کہ "پھر میرے بھائی نے پیدل ریلوے اسٹیشن جانے کا فیصلہ کیا، لیکن راستے میں کچھ نامعلوم افراد نے ان پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ ان کے سر پر گہری چوٹیں آئیں، ٹانگ ٹوٹ گئی اور کمر پر بھی شدید زخم آئے۔”
انہوں نے کہا کہ "میرے بھائی پر بے رحمی سے حملہ کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسے دردناک واقعے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
17 مارچ کو ہوئے تشدد میں عرفان انصاری شدید زخمی ہو گئے تھے، جنہیں ناگپور کے میو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کی حالت ابتدا سے ہی تشویشناک تھی، جس کے باعث انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔ بالآخر وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔یہ ناگپور فرقہ وارانہ تشدد میں پہلی ہلاکت ہے، جبکہ کئی زخمیوں کا علاج اب بھی اسپتال میں جاری ہے۔تشدد کے بعد پولیس نے امن و امان بحال کرنے کے لیے 11 علاقوں میں کرفیو نافذ کیا تھا، اور واقعہ کے چھٹے دن بھی 9 علاقوں میں کرفیو جاری ہے، جو کہ حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
9 علاقوں میں بدستور کرفیو نافذ
17 مارچ کی رات ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد ناگپور کے 11 پولیس تھانہ حلقوں میں کرفیو لگایا گیا تھا۔ تاہم، جمعرات کو ناگپور پولیس کمشنر کے حکم کے بعد دو علاقوں میں کرفیو ہٹا لیا گیا، جبکہ گنیش پیٹھ، کوتوالی، تحصیل، لکڑ گنج، پچپاولی، شانتی نگر، سکردرا، امام واڑا اور یشودھا نگر میں چھٹے دن بھی کرفیو برقرار ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ ناگپور تشدد کے دوران نقصان پہنچانے والی جائیدادوں کی قیمت فسادیوں سے وصول کی جائے گی۔ اگر وہ ادائیگی نہیں کریں گے تو ان کی جائیدادیں ضبط کرکے نیلام کر دی جائیں گی۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ فڑنویس نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا تجزیہ کرنے کے بعد اب تک 104 فسادیوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ ان میں سے 12 نابالغوں سمیت 92 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
🔗 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور معلومات کے لیے شامل ہوں:
🌍 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ



