ملک کے ارکان اسمبلی کی دولت سیاست اور جرائم-عقیل احمد
ہمارے ملک میں ارب پتی سیاستدانوں کی بھرمار ہے
ہندوستان میں ماضی کے سیاستداں بہت غریب ہوا کرتے تھے۔ اپنی غربت کے باوجود انہیں اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات میں باآسانی کامیابی حاصل ہوتی تھی۔ اس کی وجہ ان کی غیر معمولی عوامی خدمات ہوتی تھی۔ اُس دور میں سیاسی قائدین کی دولت کو نہیں بلکہ عوامی خدمات کو دیکھا جاتا تھا اور عوامی خدمات کی بنیاد پر ہی انہیں اسمبلی اور پارلیمنٹ کے لئے منتخب کیا جاتا۔ تاہم اب حالات ماضی کے بالکل برعکس ہوگئے ہیں۔ غریب انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ غریب تو دور اچھے خاصے دولت مند بھی الیکشن نہیں لڑسکتے بلکہ حد سے زیادہ دولت مند ہی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہاں! فی الوقت ہمارے ملک میں ان عناصر کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ روشن ہیں جو مذہبی خطوط پر لوگوں کو تقسیم کرنے کے ماہر ہوتے ہیں، جو جھوٹ، دروغ گوئی، بے ایمانی، دھوکہ بازی، ہیرا پھیری اور سیاسی سودے بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
جہاں تک دولت مند سیاستدانوں کا سوال ہے، ہمارے ملک میں ارب پتی سیاستدانوں کی بھرمار ہے۔ اس ضمن میں اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (ADR) نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے ارکان اسمبلی میں کون سب سے دولت مند اور کون سب سے غریب ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممبئی کے گھاٹ کوپر ایسٹ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی ایم ایل اے پرگ شاہ ملک کے دولت مند ترین ایم ایل اے ہیں، جو 3400 کروڑ روپئے مالیتی اثاثوں کے مالک ہیں۔ دوسرے نمبر پر کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار ہیں، جو 1413 کروڑ روپئے سے زائد دولت کے مالک ہیں۔ وہ کرناٹک اسمبلی میں کنکا پورہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ADR کی رپورٹ انتخابات میں مقابلہ سے قبل ان سیاستدانوں کی جانب سے داخل کردہ حلف ناموں کا جائزہ لیتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ اس اسٹڈی میں 28 ریاستوں اور تین مرکزی زیر انتظام علاقوں کے جملہ 4103 میں سے 4092 ارکان اسمبلی کا احاطہ کیا گیا۔ اسٹڈی میں ان 24 ارکان اسمبلی کو شامل نہیں کیا گیا جن کے حلف نامے پڑھنے کے قابل نہیں تھے۔ اس کے علاوہ سات مخلوعہ نشستوں کو بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔
ADR کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ سب سے غریب رکن اسمبلی بی جے پی کے نرمل کمار دھارا ہیں جو مغربی بنگال کے حلقہ اسمبلی انڈوس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلف نامے میں خود کو صرف 1700 روپئے مالیتی اثاثوں کا مالک بتایا ہے۔ ملک کے دولت مند ترین ارکان اسمبلی میں چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو (931 کروڑ روپئے مالیتی اثاثے)، سابق چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی (757 کروڑ روپئے مالیتی اثاثے)، کرناٹک کے آزاد رکن اسمبلی کے ایچ پٹا سوامی گوڑا (1267 کروڑ روپئے)، کرناٹک کے کانگریس ایم ایل اے پریا کرشنا (1156 کروڑ روپئے)، آندھرا پردیش کے ٹی ڈی پی ایم ایل اے پینارائنا (824 کروڑ روپئے) اور آندھرا پردیش کے ہی تلگو دیشم ایم ایل اے وی پرشانتی ریڈی (716 کروڑ روپئے اثاثوں کے مالک) نمایاں ہیں۔ واضح رہے کہ جن 4092 ارکان اسمبلی کے حلف ناموں کا جائزہ لیا گیا، ان میں 119 (3 فیصد) ارکان اسمبلی ارب پتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چار ارکان اسمبلی کی دولت ہزار کروڑ روپیوں سے زائد ہے۔ 8 ارکان اسمبلی ایسے ہیں جن کی دولت یا اثاثے 500 کروڑ اور 1000 کروڑ روپیوں کے درمیان ہیں۔
ADR رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 223 ارکان اسمبلی کے جملہ اثاثے 14179 کروڑ روپئے ہیں۔ کرناٹک وہ ریاست ہے جہاں ملک میں سب سے زیادہ دولت مند ارکان اسمبلی پائے جاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر مہاراشٹر ہے جہاں کے ارکان اسمبلی کے اثاثہ جات کی مالیت 12424 کروڑ روپئے ہے جبکہ آندھرا پردیش کے ارکان اسمبلی 11323 کروڑ روپئے مالیتی اثاثوں کے مالک ہیں۔ اوسط دولت یا اثاثوں کے معاملہ میں آندھرا پردیش (174 ارکان اسمبلی) کی فی کس اوسط دولت 65.07 کروڑ روپئے ہے جبکہ کرناٹک میں ارکان اسمبلی کی اوسط دولت 65.58 کروڑ روپئے درج کی گئی ہے۔ مہاراشٹر (286 ارکان اسمبلی) کی اوسطاً دولت 48.44 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب تریپورہ کے 60 ارکان اسمبلی کی اجتماعی دولت یا اثاثہ جات 90 کروڑ روپئے مالیتی بتائے جاتے ہیں۔ اس طرح منی پور کے 59 ارکان اسمبلی کی اجتماعی دولت یا اثاثہ 222 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے ارکان اسمبلی کی دولت دیگر ریاستوں کے ارکان اسمبلی سے بہت کم ہے۔ تریپورہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں ایک رکن اسمبلی کی اوسط دولت 1.51 کروڑ روپئے ہے۔ اس معاملہ میں دوسرے نمبر پر مغربی بنگال (293 ارکان اسمبلی) ہے جہاں کے ارکان اسمبلی کی اوسط دولت 2.80 کروڑ روپئے، کیرالا (134 ارکان اسمبلی) کے اوسطاً اثاثے 3.13 کروڑ روپئے بتائے گئے۔
موجودہ 4092 ارکان اسمبلی کے جملہ اثاثوں کی مالیت 73348 کروڑ روپئے بتائی جاتی ہے جو ریاست ناگا لینڈ کے بجٹ برائے سال 2023-24 (23086 کروڑ روپئے)، تریپورہ کا بجٹ (26892 کروڑ روپئے) اور میگھالیہ (22022 کروڑ روپئے) یعنی ان تینوں ریاستوں کے جملہ بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ ADR کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 45 فیصد ارکان اسمبلی فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جن 4092 ارکان اسمبلی کے حلف ناموں کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے 1861 (45 فیصد) ارکان اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات زیر دوران ہیں۔ جملہ 1205 (29 فیصد) ارکان اسمبلی نے حلف ناموں میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں جن میں قتل، اقدام قتل، اغواء اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے سنگین مقدمات شامل ہیں۔
آندھرا پردیش وہ ریاست ہے جہاں 174 میں سے 138 ارکان اسمبلی (79 فیصد) فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسرے نمبر پر کیرالا ہے جہاں 134 ارکان اسمبلی میں سے 93 (69 فیصد) ایم ایل ایز نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ہونے کا اعتراف کیا۔ دوسری ریاستیں جہاں 60 فیصد ارکان اسمبلی کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے، ان میں ریاست تلنگانہ (119 میں سے 82 یعنی 69 فیصد)، بہار (241 ایم ایل ایز میں سے 158 یعنی 66 فیصد) اور مہاراشٹر (286 ارکان اسمبلی میں سے 187 یعنی 65 فیصد) شامل ہیں۔ جملہ 54 ارکان اسمبلی نے اپنے خلاف قتل کے مقدمات، 226 نے اقدام قتل کے مقدمات اور 127 ارکان اسمبلی نے خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات ہونے کا اعتراف کیا۔ کم از کم 13 ارکان اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف ریپ کے مقدمات چل رہے ہیں۔



