بین الاقوامی خبریں

GTF 2025 سیرت کوئز مقابلہ–نوجوان ذہنوں میں سیرت النبی ﷺ کی روشنی

ٹاپ 20 فاتحین کے لیے خصوصی انعامات، میڈلز اور اسناد کی تقریب کا اعلان

الریاض:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ماہِ رمضان المبارک میں  علم و ایمان سے مزین شاندار 2025 سیرت آن لائن کوئز مقابلہ گلوبل تلنگانہ فورم (GTF) کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا۔ سعودی عرب کے مختلف شہروں جیسے ریاض، جدہ، دمام، مدینہ اور ينبع سے 143 طلبہ نے پرجوش شرکت کی۔

یہ مقابلہ آن لائن زوم اور گوگل میٹ کے ذریعے منعقد ہوا، جبکہ کوئز کو Quizizz جیسے معروف ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر انگریزی زبان میں ترتیب دیا گیا، تاکہ 12 سے 17 سال کے طلبہ سہولت کے ساتھ شرکت کر سکیں۔ اس مقابلے کا بنیادی مقصد محض کامیابی حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور ان کی عظیم تعلیمات کو گہرائی سے سمجھنا اور ان پر غور و فکر کرنا تھا۔

 فاتحین کے لیے خصوصی اعزاز

اس مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاپ 20 فاتحین کو خصوصی اعزازات سے نوازا جائے گا۔ انعامات میں میڈلز اور اسناد شامل ہوں گے، جن کی تقسیم کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے دعوت نامے جلد جاری کیے جائیں گے۔

GTF کی تعلیمی و فلاحی خدمات

اس مقابلے کے ساتھ ساتھ گلوبل تلنگانہ فورم (GTF) تعلیمی فروغ، یکجہتی اور سماجی بہبود کے میدان میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیاب پروگرام کو منعقد کرانے میں Global Telangana Forum کے بانی و صدر عبدالجبار، نائب صدر محمد لائق، جنرل سیکریٹری شیخ امتیاز، جوائنٹ سیکریٹری سید عمران، میڈیکل وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر جنید، جوائنٹ سیکریٹری حسین شبیر نے نمایاں کردار ادا کیا۔

 ابوبکر صدیق، ڈاکٹر ایم عبدالمتین اور لائق النساء نے بھی اس کامیاب پروگرام میں خصوصی معاونت فراہم کی۔ گلوبل تلنگانہ فورم (GTF) نہ صرف تعلیمی میدان میں ترقی کے لیے کوشاں ہے بلکہ مختلف سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہے، جن میں تعلیمی معاونت، کیریئر گائیڈنس، خواتین کی فلاح و بہبود، حج والنٹیئر سروسز، بلڈ ڈونیشن کیمپس اور قانونی معاونت شامل ہیں۔

ہندوستانی قونصلیٹ جدہ کے تعاون سے گلوبل تلنگانہ فورم (GTF) ہندوستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے بھی مؤثر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس مقابلے کے ذریعے GTF نے نوجوانوں کی فکری اور علمی ترقی میں ایک اور اہم قدم بڑھایا اور انہیں ایک مثبت سمت فراہم کی۔

یہ ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ثابت ہوا، جو نہ صرف شرکاء کے لیے علمی بصیرت میں اضافے کا سبب بنا بلکہ سیرت النبی ﷺ کی آگاہی میں بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button