کرنیل سنگھ کا دہلی پولیس کمشنر کو خط، سڑکوں اور عوامی مقامات پر نماز پڑھنے پر پابندی کا مطالبہ
دہلی میں سڑکوں پر نماز پڑھنے پر بی جے پی ایم ایل اے کا اعتراض،
نئی دہلی، 26 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کی شکور بستی سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے کرنیل سنگھ نے بدھ کو دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ کو ایک خط لکھا، جس میں بی جے پی ایم ایل اے نے سڑکوں پر نماز پڑھنے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ کرنیل سنگھ نے کہا کہ سڑکوں اور عوامی مقامات پر نماز پڑھنے سے ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہم سب کو اپنے اپنے مذہب کی پیروی کا حق ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ امن عامہ اور ٹریفک متاثر نہ ہو۔
بی جے پی ایم ایل اے کرنیل سنگھ نے دہلی پولیس کمشنر کو لکھے ایک خط میں کہا، "میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ ہمارے شہر میں سڑکوں اور عوامی مقامات پر نماز پڑھنے سے ٹریفک میں خلل پڑتا ہے، جس سے عام لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ کئی بار ایمبولینس، اسکول بسیں اور دیگر ضروری خدمات بھی اس کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔” انہوں نے مزید لکھا کہ "ہم سب کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے کا حق ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ امن عامہ اور ٹریفک متاثر نہ ہو۔ آپ سے درخواست ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں ضروری اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مذہبی سرگرمیاں صرف مخصوص جگہوں اور نجی احاطے میں منعقد کی جائیں۔ امید ہے کہ آپ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے اور مناسب کارروائی کریں گے۔
دوسری جانب، آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد راشدی نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ، "ملک میں نفرت انگیز بیانات کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ عید سال میں ایک بار آتی ہے، لیکن جگراتے اور کاواڑ یاترا بھی سڑکوں پر نکالی جاتی ہیں، جن پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔”انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک میں نفرت انگیز تقاریر کا سیلاب ہے۔ ہر کوئی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانات دے کر راتوں رات ہٹ ہونا چاہتا ہے۔ جگراتے اور کاواڑ یاترا سڑکوں پر نکالی جاتی ہے۔ لیکن، مسلم کمیونٹی نے کبھی منع نہیں کیا۔ عید سال میں ایک بار آتی ہے، ایسے بیانات دے کر ملک کو کیوں آگ لگانا چاہتے ہیں۔



