قومی خبریں

مدھیہ پردیش: پیاسے چیتوں کو پانی پلانے پر ڈرائیور معطل، ویڈیو وائرل

 نیکی کی سزا — ملازمت سے معطلی

گاندھی نگر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں ایک حیرت انگیز اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک سرکاری ڈرائیور کو صرف اس لیے معطل کر دیا گیا کہ اُس نے پیاسے چیتوں کو پانی پلایا تھا۔

واقعہ اُس وقت پیش آیا جب چیتا جوالا اور اس کے چار بچے ایک شکار کے پیچھے پیچھے قریبی گاؤں میں داخل ہو گئے۔ گاؤں والوں نے انہیں دیکھ کر خوف زدہ ہو کر پتھراؤ شروع کر دیا، جس کے بعد چیتے وہاں سے فرار ہو گئے۔

 درخت کے نیچے سائے میں سستانے والے چیتے

پتھروں کی بوچھاڑ کے بعد جوالا اور اس کے بچے قریبی درخت کے نیچے آ کر آرام کرنے لگے۔ وہ شدید پیاسے نظر آ رہے تھے۔ اسی دوران محکمہ جنگلات کے ایک ڈرائیور نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ لائے گئے کین سے ایک برتن میں پانی ڈالا اور چیتوں کو پیار سے پانی پینے کے لیے بلایا۔

چیتے فوراً برتن کے قریب آئے اور پیاس بجھانے لگے۔ یہ منظر کیمرے میں قید ہو گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

 نیکی کی سزا — ملازمت سے معطلی

یہ ویڈیو جب محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام تک پہنچی تو انہوں نے حیران کن طور پر مذکورہ ڈرائیور کو معطل کر دیا۔

محکمہ جنگلات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا:"چیتوں کو پانی پلانا ایک جذباتی قدم ہو سکتا ہے، مگر اس قسم کی حرکتیں فطری ماحولیاتی توازن کے لیے خطرہ ہیں۔ انسانوں کو جنگلی جانوروں سے فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنی فطری زندگی خود گزار سکیں۔”

 سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

جہاں حکام نے اس عمل کو "غلط” قرار دیا، وہیں سوشل میڈیا صارفین نے ڈرائیور کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے۔

ایک صارف نے لکھا:"ایسا انسان آج کے دور میں نایاب ہے۔ اُس نے ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔”

دوسرے نے کہا:"جنگلی حیات کے تحفظ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جانوروں کو پیاسا مرنے دیں۔ ڈرائیور نے ایک بہترین انسان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔”

یہ واقعہ ایک بڑی بحث کو جنم دیتا ہے کہ آخر جنگلی حیات کے تحفظ اور انسانی ہمدردی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔

کیا قوانین اتنے سخت ہونے چاہئیں کہ ایک جان بچانے والا عمل بھی جرم بن جائے؟ یا ہمیں ایک نئے ماڈل کی ضرورت ہے جہاں حفاظت کے ساتھ ساتھ ہمدردی کو بھی جگہ دی جائے؟

 

🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!

🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ

 

متعلقہ خبریں

Back to top button