
واشنگٹن:(ایجنسیاں) امریکی سینیٹ نے صدر جو بائیڈن کے تجویز کردہ 19 کھرب ڈالرز کے کرونا ریلیف بل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم کرونا وبا اور امریکیوں کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے خرچ کی جائے گی۔ ری پبلکن پارٹی نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ ہفتے کو کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد سو رْکنی سینیٹ نے 49 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے بل کی منظوری دی۔
ایوانِ نمائندگان پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکا ہے۔البتہ، سینیٹ نے بل میں کئی تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ جس کے لیے یہ بل دوبارہ ایوانِ نمائندگان میں بھجوایا جائے گا جہاں آئندہ ہفتے اس پر ووٹنگ ہو گی۔ ووٹنگ کے بعد صدر بائیڈن اس بل پر دستخط کریں گے جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
حکمراں جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ بل کرونا وبا کو شکست دینے اور معیشت کی بحالی میں مددگار ثابت ہو گا۔البتہ، حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ اس بل میں ضرورت سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔اس امدادی پیکیج کی مد میں جہاں ویکسین اور طبی اشیا کے اخراجات کو پورا کیا جائے گا۔
وہیں اکثر شہریوں کو 1400 ڈالر فی کس کی ادائیگی بھی کی جائے گی۔ بل میں 14 ارب ڈالر کی رقم ویکسین کی تیز رفتار ترسیل اور اسے سرعت کے ساتھ لوگوں کو لگانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔بل میں 46 ارب ڈالر کی رقم وفاقی اور ریاستی سطح پر کرونا ٹیسٹنگ کے نظام کو مزید فعال بنانے اور کونٹیکٹ ٹریسنگ پر خرچ کیے جائیں گے۔
اس بل میں کرونا وبا کے باعث بے روزگار ہونے والے امریکیوں کو چھ ستمبر تک ہفتہ وار وفاق کی طرف سے اضافی 300 ڈالرز دیئے جائیں گے جب کہ مختلف کمپنیوں سے نکالے گئے افراد انہی کمپنیوں کے تحت ستمبر تک ہیلتھ انشورنس کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔
بل میں تعلیمی اداروں کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے 130 ارب ڈالرز مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت کنڈر گارٹن سے لے کر 12 ویں گریڈ تک کلاس رومز میں سماجی فاصلوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اس رقم سے کلاس رومز میں وینٹی لیشن سسٹم اور کرونا وبا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی فراہمی بھی یقینی بنائے جائے گی۔



