بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

کوچی:کیرالہ کی نجی کمپنی میں ملازمین کی تذلیل، کتے کی طرح رینگنے کی ویڈیو وائرل

ویڈیو وائرل، ریاست بھر میں غم و غصہ اور لیبر محکمے کی فوری کارروائی

کوچی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کیرالہ کے شہر کوچی میں ایک نجی مارکیٹنگ کمپنی کے اندر مبینہ طور پر ملازمین پر کیے جانے والے غیر انسانی سلوک کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلز ٹارگٹ پورا نہ کرنے پر ملازمین کو جانوروں کی طرح گلے میں زنجیر ڈال کر گھسیٹا جا رہا ہے اور انہیں گھٹنوں کے بل چلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ ویڈیو چار ماہ پرانی ہے اور کمپنی کے ایک سابق منیجر نے اسے ریکارڈ کیا تھا، جس کا کمپنی مالکان سے پرانا تنازع تھا۔ مذکورہ منیجر کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک "ٹریننگ سرگرمی” تھی، مگر پولیس نے اسے "گمراہ کن ویڈیو” قرار دیا ہے۔

 ویڈیوز اور انکشافات

ایک اور ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کچھ ملازمین کو سزا کے طور پر کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ جیسے ہی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، ریاستی لیبر محکمے نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا اور مکمل رپورٹ طلب کر لی۔

پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والے ملازمین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں جنہوں نے سابق منیجر کو اس تمام صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

واقعے پر مختلف موقف

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ایک فرد نے میڈیا کو بتایا کہ "ادارے میں کوئی ہراسانی نہیں ہوئی” اور یہ سب سابق منیجر کی چال ہے جو ادارے کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ اب بھی اس کمپنی میں ملازمت کر رہا ہے اور یہ ویڈیوز زبردستی بنوائی گئی تھیں۔

حکومتی اداروں کی مداخلت

  • لیبر منسٹر وی سیونکٹٹی نے اس ویڈیو کو "دھچکا دینے والا اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔

  • کیرالہ اسٹیٹ یوتھ کمیشن نے بھی خود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ضلع پولیس افسر سے رپورٹ طلب کی ہے۔

یوتھ کمیشن کے چیئرمین ایم شاجر نے کہا کہ:"ایسے غیر انسانی رویے مہذب اور جمہوری معاشرے میں ناقابل برداشت ہیں، سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔”

اس افسوسناک واقعے پر کیرالہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایک ہائی کورٹ وکیل کلاتھور جے سنگھ کی درخواست پر از خود نوٹس لیا ہے۔ ساتھ ہی کیرالہ اسٹیٹ یوتھ کمیشن نے بھی ضلعی پولیس سربراہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

 کمپنی کے مالک پر ماضی میں ایک جنسی زیادتی کے مقدمے میں گرفتاری بھی ہو چکی ہے، جس سے عوامی شکوک میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، حالانکہ ان دونوں معاملات میں تاحال کوئی باضابطہ ربط ثابت نہیں ہوا۔

اگرچہ اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، لیکن لیبر ڈپارٹمنٹ، انسانی حقوق کمیشن اور یوتھ کمیشن کی جانب سے جاری تحقیقات مستقبل قریب میں قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہیں۔

🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!

🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ

متعلقہ خبریں

Back to top button