ممتا بنرجی کا برطرف اساتذہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی: "جب تک میں زندہ ہوں، کسی کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا”
ممتا بنرجی کا برطرف اساتذہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عدالتی فیصلے پر شدید ردعمل
کولکاتہ، 7 اپریل (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج پیر کے روز ان 25,000 سے زائد اساتذہ سے ملاقات کی جنہیں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ عدالت نے 2016 کی اساتذہ بھرتی میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزام میں تمام تقرریاں منسوخ کر دی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد تعلیمی و سماجی حلقوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔
ممتا بنرجی نے متاثرہ اساتذہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو "تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی سازش” قرار دیا۔ انہوں نے کہا:
"میں ان اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہوں جنہوں نے اپنی ملازمتیں کھو دی ہیں، اور جب تک میں زندہ ہوں، کسی کو ان کی نوکری نہیں چھیننے دوں گی۔”
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان میں سے کئی اساتذہ گولڈ میڈلسٹ ہیں اور اپنی قابلیت کا ثبوت دے چکے ہیں، لیکن آج انہیں "چور” اور "نااہل” قرار دیا جا رہا ہے۔
"یہ حق کس نے دیا؟ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے؟” ممتا نے سوال اٹھایا۔
وزیر اعلیٰ نے عدالت کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اہل اور نااہل افراد کی واضح فہرست فراہم نہیں کی، اور حکومت کو فیکٹ فائنڈنگ کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
"عدالت نے موقع نہیں دیا، فیکٹ فائنڈنگ نہیں ہونے دی۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہل افراد کے لیے روزگار کو یقینی بنائے،” ممتا نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے پر اگر انہیں جیل بھی جانا پڑا، تو وہ تیار ہیں:
"یہ میرے لیے اہم نہیں کہ کون کس نظریے سے تعلق رکھتا ہے، ان کی عزت اور وقار کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔”
ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سینئر وکلاء جیسے کہ ابھیشیک منو سنگھوی، کپل سبل، کلیان بنرجی، پرشانت بھوشن اور راکیش دویدی کو اس کیس کی وکالت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
"ہم نے پہلے طلبہ کی حمایت کی تھی، اب حکومت پوری طاقت سے متاثرہ اساتذہ کے حق میں لڑے گی،” انہوں نے کہا۔
میٹنگ میں کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی شریک ہوئے اور اساتذہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جدوجہد جاری رہے گی، اور وہ انصاف کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔



