بین ریاستی خبریں

جمشید پور کے دھلبھوم گڑھ میں مذہبی پرچم کی بےحرمتی اور ممنوعہ گوشت پھینکنے سے کشیدگی، بازار بند

پولیس اور انتظامیہ کی فوری کارروائی

جمشید پور، 7 اپریل (اردو دنیا / ایجنسیاں)جمشید پور کے دھلبھوم گڑھ قصبے میں مذہبی پرچم کی بےحرمتی اور ممنوعہ گوشت پھینکنے کے واقعے نے علاقے میں سخت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ رام نومی کے موقع پر ہنومان واٹیکا مندر کے قریب نصب کیے گئے مذہبی جھنڈوں کو نامعلوم افراد نے اکھاڑ کر پھینک دیا، جب کہ مندر کے نزدیک ممنوعہ گوشت بھی پھینک دیا گیا۔ یہ واقعہ پیر کی صبح منظرِ عام پر آیا جس کے بعد مقامی افراد میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

جیسے ہی خبر پھیلی، سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے قومی شاہراہ این ایچ-18 کو صبح 9 بجے سے بند کر دیا، جس کے نتیجے میں سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ احتجاج کے دوران نعرے بازی بھی کی گئی اور دوپہر ایک بجے تک سڑک کی ناکہ بندی جاری رہی۔ صورتِ حال کے پیش نظر دھلبھوم گڑھ اور نرسنگھ گڑھ کے بازار بھی مکمل طور پر بند کر دیے گئے۔

علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مشرقی سنگھ بھوم (جمشید پور) کے دیہی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) رشبھ گرگ، گھٹسیلا کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سنیل چندرا، اور موسابنی پولیس اسٹیشن کے انچارج سندیپ بھگت موقع پر پہنچے اور مشتعل افراد کو پرامن رہنے کی اپیل کی۔ پولیس افسران نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی مکمل جانچ کی جائے گی اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

مقامی افراد کے مطابق، اتوار کو رام نومی کے جلوس کا اہتمام بڑی عقیدت اور جوش و خروش سے کیا گیا تھا۔ جلوس کے دوران مندر کے قریب بڑی تعداد میں مذہبی جھنڈے لگائے گئے تھے۔ تاہم، پیر کی صبح جب لوگ وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ جھنڈے اکھاڑ کر پھینک دیے گئے ہیں اور مندر کے قریب ممنوعہ گوشت بھی بکھرا ہوا ہے۔ مندر کی گھنٹی سمیت دیگر اشیاء کی چوری کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

عینی شاہدین اور مقامی سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ یہ حرکت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس سے قبل بھی ایک سال قبل اسی مقام پر اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا، جب شرپسندوں نے ممنوعہ گوشت کا ٹکڑا پھینک کر ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

دیہی ایس پی رشبھ گرگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

"معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی تحقیقاتی سیل تشکیل دیا گیا ہے جو تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کرے گا۔ شرپسند عناصر کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”

علاقے میں پولیس گشت بڑھا دی گئی ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انتظامیہ عوام سے صبر و تحمل سے کام لینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دینے کی اپیل کر رہی ہے تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button