متنازع وقف قانون سپریم کورٹ میں چیلنج
سپریم کورٹ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف درخواستوں کی سماعت پر آمادہ
دہلی، ۷؍ اپریل(اردو دنیا ڈاٹ اِن / ایجنسیز) بھارت میں وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، اور اب تک کم از کم آٹھ مختلف درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی جا چکی ہیں۔ ان درخواستوں میں اس متنازع قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے اس پر فوری روک لگانے کی اپیل کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ صدر دروپدی مرمو نے ہفتے کے روز اس بل پر دستخط کر دیے تھے، جس کے بعد یہ باضابطہ قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
مسلم تنظیموں کی جانب سے قانونی چیلنج
سپریم کورٹ میں جن افراد اور اداروں نے یہ درخواستیں دائر کی ہیں، ان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علمائے ہند، لوک سبھا کے کانگریس رکن محمد جاوید، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی، این جی او ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) اور عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان شامل ہیں۔ ان سب کا مؤقف ہے کہ وقف قانون میں کی گئی یہ ترامیم نہ صرف بھارتی آئین کی دفعات کے منافی ہیں بلکہ یہ مسلم اقلیت کے مذہبی، قانونی اور سماجی حقوق پر براہ راست حملہ ہیں۔
‘ایک بار وقف، تو ہمیشہ کے لیے وقف’ کی خلاف ورزی
درخواست گزاروں نے زور دے کر کہا ہے کہ نیا قانون سپریم کورٹ کے اس تاریخی اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ "ایک بار وقف، تو ہمیشہ کے لیے وقف”۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد مسلمانوں کو ان کی وقف جائیدادوں سے محروم کرنا اور انہیں سرکاری یا نجی املاک میں تبدیل کرنا ہے۔
وقف بائی یوزر کا تصور ختم کرنا خطرناک اقدام
ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ نئے قانون میں "وقف بائی یوزر” یعنی صارف کے ذریعے وقف کے تصور کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ اصول کئی دہائیوں سے اوقاف کے مقدمات میں ایک اہم ثبوت کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ بالخصوص بابری مسجد کیس میں بھی سپریم کورٹ نے اس کا تذکرہ کیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصور ختم کر دیا گیا تو ملک بھر میں وقف کی ہزاروں املاک — جن میں مساجد، قبرستان، درگاہیں شامل ہیں — قانونی چیلنجز کی زد میں آ جائیں گی کیونکہ ان کے پاس تحریری دستاویزات نہیں ہوتیں بلکہ وہ نسلوں سے زبانی وقف کی صورت میں استعمال ہو رہی ہیں۔
وقف بورڈ کی تشکیل نو پر بھی اعتراض
نئے قانون کے تحت مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈوں کی تشکیل نو بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان میں مسلم نمائندگی کو یا تو محدود کر دیا گیا ہے یا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بورڈز میں مسلم چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، جس پر شدید اعتراض کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر کاری ضرب
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ ترامیم مسلمانوں کو اپنے مذہبی اور فلاحی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام خود چلانے کے بنیادی آئینی حق سے محروم کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے قانون میں باعمل مسلمان ہونے کی شرط پانچ سال تک محدود کرنا نہ صرف بھارتی آئین بلکہ اسلامی شریعت سے بھی متصادم ہے۔
حکومت کی وضاحت اور عوامی بے چینی
اقلیتی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا ہے کہ "جو لوگ بل کو نہیں سمجھتے وہ ناراض ہیں، لیکن جو لوگ اس کی روح کو سمجھتے ہیں، وہ دیکھیں گے کہ آنے والے دو سے تین برسوں میں غریبوں، مسلم خواتین اور دیگر طبقات کو فائدہ ہوگا۔” تاہم مسلم رہنماؤں اور سماجی تنظیموں کا ماننا ہے کہ یہ وضاحتیں محض دھوکہ دہی ہیں اور حقیقت میں اقلیتوں کے مذہبی، قانونی اور آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔
عدالت عظمیٰ سے آخری امید
ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو دستور ہند کے محافظ کے طور پر ان ترامیم کو کالعدم قرار دینا چاہیے تاکہ آئین کی عظمت کو بحال رکھا جا سکے اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔
سپریم کورٹ نے درخواستوں کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کر دی
سپریم کورٹ نے پیر کے روز وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی کئی اہم آئینی درخواستوں کی فہرست پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سینئر وکیل کپل سبل کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ان درخواستوں کو ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ یہ "انتہائی اہم” ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ دوپہر میں تذکرہ پیپر دیکھنے کے بعد درخواستوں پر غور کریں گے۔
یہ پیشرفت جمعہ کے روز پارلیمنٹ سے وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے فوراً بعد سامنے آئی، جب متعدد تنظیموں اور جماعتوں نے سپریم کورٹ میں اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے عرضیاں دائر کیں۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئینی جواز کی بنیاد پر عدالت میں چیلنج کرے گی۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون ملک کے آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے اور اس کا مقصد معاشرے کو مذہبی بنیادوں پر پولرائز اور تقسیم کرنا ہے۔
کانگریس کے لوک سبھا ممبر اور پارٹی کے وہپ محمد جاوید نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یہ ترامیم آئین ہند کے آرٹیکل 14، 25، 26، 29 اور 300A کی خلاف ورزی ہیں۔ ان دفعات میں شہریوں کے لیے مساوات، مذہبی آزادی، مذہبی امور کو منظم کرنے کا حق، اقلیتوں کے ثقافتی حقوق اور ملکیت کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔
اسی دوران، جمعیت علماء ہند نے بھی اپنی عرضی دائر کرتے ہوئے ان ترامیم کو آئین پر "براہِ راست حملہ” قرار دیا۔ تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ یہ قانون نہ صرف مساوی شہری حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش بھی ہے۔ جمعیت نے مزید کہا کہ یہ مسلمانوں کی مذہبی خودمختاری پر حملہ ہے اور ریاستی اکائیاں بھی اپنی ریاستوں میں ہائی کورٹس میں اس قانون کے خلاف درخواستیں دائر کریں گی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے رہنما اکبرالدین اویسی نے بھی اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
دوسری جانب مرکزی حکومت نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے "کروڑوں غریب مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا” اور کسی بھی فرد یا طبقے کو نقصان نہیں ہوگا۔ اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ یہ قانون وقف املاک میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا بلکہ بہتر نظم و نسق کے لیے اصلاحی قدم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مودی حکومت "سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے نعرے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ وقف (ترمیمی) بل 2025 کو بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا، اور ہفتہ کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اس پر دستخط کر دیے۔ اس بل کے نافذ ہونے کے بعد وقف ایکٹ 1995 کا نام بھی تبدیل کر کے یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، ایمپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ (امید) ایکٹ 1995 رکھ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔



