حکومت ہند کو لال قلعہ,آگرہ اور تاج محل سے کروڑہا روپیوں کی آمدنی
راجیہ سبھا میں وزیر ثقافت کا انکشاف: تاج محل، لال قلعہ، قطب مینار سے حکومت کو کروڑہا روپوں کی آمدنی
مسلمانوں نے ہندوستان کو کیا دیا؟ مغلیہ ورثہ آج بھی حکومت کے لیے دولت کا خزانہ!
حیدرآباد۔ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)”مسلمانوں نے ہندوستان کو کیا دیا؟” اور "مسلمانوں کے دورِ حکومت سے ہندوستان کو کیا فائدہ ہوا؟” ایسے سوالات کا جواب خود حکومت ہند نے دے دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیان کے مطابق مغل بادشاہوں کے دور کی تعمیرات آج بھی حکومت کو کروڑوں روپے کی آمدنی دے رہی ہیں۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی نگرانی میں جو تاریخی ورثہ موجود ہے، ان میں سب سے زیادہ آمدنی والے 4 سیاحتی مقامات مغلیہ دور کی تعمیرات ہیں۔ ان مقامات پر ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں اور ٹکٹوں کی فروخت سے کروڑہا روپئے حاصل ہوتے ہیں۔
سال 2024-25 کی آمدنی درج ذیل ہے:
-
تاج محل (آگرہ) – ₹98.5 کروڑ
-
قطب مینار (دہلی) – ₹23.8 کروڑ
-
لال قلعہ (دہلی) – ₹18 کروڑ
-
آگرہ قلعہ – ₹15.3 کروڑ
-
بھوبھنیشور مندر – ₹12.7 کروڑ
تاج محل بدستور سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے، جہاں 2024 میں سیاحوں کی ریکارڈ تعداد پہنچی۔ صرف تاج محل سے ہی ₹98 کروڑ 55 لاکھ 27 ہزار 533 کی آمدنی حاصل ہوئی۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعمیر کردہ عمارتیں آج بھی نہ صرف تہذیبی اور ثقافتی اثاثہ ہیں بلکہ معاشی اعتبار سے بھی حکومت کے لیے سونے کی کان ثابت ہو رہی ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھی یہی مغلیہ یادگاریں سیاحتی آمدنی میں سرفہرست رہی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسلمانوں نے جو ورثہ چھوڑا وہ آج بھی ہندوستان کی ترقی میں کردار ادا کر رہا ہے۔



