نئے ترمیم شدہ وقف قانون سے لینڈ جہادیوں کیلئے مشکل وقت: راجہ سنگھ کا متنازعہ بیان
حیدرآباد میں رام نومی شوبھا یاترا، راجہ سنگھ کے متنازعہ ریمارکس
رام نومی کی شوبھا یاترا سے ملعون رکن اسمبلی راجہ سنگھ کا خطاب
حیدرآباد (اردو دنیا.اِن / ایجنسیز)شہر حیدرآباد میں اتوار کے روز رام نومی شوبھا یاترا کا جلوس نکالا گیا، جس کی قیادت گوشہ محل کے رکن اسمبلی ملعون راجہ سنگھ نے کی۔ جلوس میں شرکت کے دوران راجہ سنگھ نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم شدہ وقف قانون ملک میں جاری مبینہ "لینڈ جہاد” کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ "ہندوستان میں زعفرانی حکومت کے قیام کے بعد لینڈ جہادیوں کے لیے مشکل وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرا کے اسے نافذ کر دیا ہے۔”
راجہ سنگھ نے سوال کیا کہ "جب ملک آزاد ہوا تھا، تب صرف چار ہزار ایکڑ وقف اراضی تھی، لیکن آج یہ تعداد 9.5 لاکھ ایکڑ تک کیسے پہنچ گئی؟” انہوں نے وضاحت دی کہ "نیا قانون مسلمانوں کی زمینیں نہیں چھینے گا، بلکہ صرف بے ضابطگیوں کو روکے گا۔”
اویسی کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا
اپنے خطاب کے دوران راجہ سنگھ نے مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کو "مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اویسی کا ترمیم شدہ وقف قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنا بے اثر ہوگا۔ ان کے مطابق یہ قانون اب پورے ملک میں لاگو ہو چکا ہے اور عدالت کی کارروائی اس پر اثر انداز نہیں ہوگی۔
ہندو راشٹر کے قیام کا مطالبہ
راجہ سنگھ نے جلوس کے دوران ایک اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا، "ہر ہندو کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دیا جائے۔” ان کے اس بیان نے کئی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اس پر سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جلوس کا پرامن اختتام، پولیس کی مؤثر نگرانی
رام نومی شوبھا یاترا کا جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ پولیس کمشنر سی وی آنند نے جلوس کے اختتام پر عوام اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ہر مقام پر نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
راجہ سنگھ کو دوبارہ پارٹی سے معطل کرنے کا امکان!
بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف پارٹی میں دوبارہ تادیبی کارروائی کی تیاری ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ بی جے پی کی قیادت ان کے مسلسل متنازعہ بیانات سے ناراض ہے اور اس سلسلے میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی ہے، جو آنے والے دنوں میں دہلی روانہ کی جائے گی۔
راجہ سنگھ نے حالیہ دنوں میں بی جے پی ریاستی صدر و مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کے خلاف شدید تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی صدر کا اعلان ریاستی کمیٹی سے ہوتا ہے تو وہ محض "رَبَر اسٹامپ” ہوگا۔ ان کے ان بیانات کو پارٹی کے اندرونی خلفشار میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امیدوار کے انتخاب پر اعتراض، غلام گری کا الزام
راجہ سنگھ نے حالیہ حیدرآباد مجالس مقامی کونسل انتخابات کے لیے بی جے پی امیدوار گوتم راؤ کی نامزدگی پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے انہیں کشن ریڈی کا غلام قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں تنقید کی۔ اس تنقید نے پارٹی میں داخلی کشمکش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ سنگھ کو پارٹی سے دوبارہ معطل کیے جانے کا امکان قوی ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ان پر متنازعہ بیانات کے سبب بی جے پی نے انہیں معطل کیا تھا۔



