فیٹی لیور: ایک خاموش قاتل، جو دیگر جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے
فیٹی لیور: ایک خاموش بیماری
فیٹی لیور کا خطرناک پہلو: نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟
یورپ کے مشہور کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ایک تازہ تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ فیٹی لیور کی بیماری میں مبتلا افراد نہ صرف جگر کے مرض سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ دیگر کئی مہلک بیماریوں جیسے کینسر، امراض قلب اور سانس کی بیماریوں کا بھی شکار ہو کر موت کا سامنا کرتے ہیں۔
تحقیق جرنل آف ہیپاٹولوجی میں شائع ہوئی، جس میں 2002 سے 2020 کے درمیان سوئیڈن کے 13,099 ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جنہیں میٹابولک ڈسفیکشن اسٹیٹوٹک یعنی فیٹی لیور کی بیماری لاحق تھی۔
تحقیق کے اہم نکات
-
فیٹی لیور میں مبتلا افراد میں مرنے کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ پایا گیا۔
-
جگر کی بیماری سے مرنے کا خطرہ 27 گنا اور جگر کے کینسر سے 35 گنا زیادہ تھا۔
-
موت کی وجوہات میں شامل ہیں:
-
معدے کی بیماریاں
-
انفیکشنز
-
سانس کی بیماریاں
-
اینڈوکرائن (ہارمونی) مسائل
-
-
دلچسپ بات یہ ہے کہ ذہنی بیماریوں کی وجہ سے موت کا کوئی نمایاں خطرہ نہیں پایا گیا۔
فیٹی لیور: ایک خاموش بیماری
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیٹی لیور اکثر علامات ظاہر کیے بغیر جگر میں چربی جمع کرتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ ساتھ:
-
جگر کی سوزش
-
جگر کا فائبروسس
-
سِروسِس
-
اور آخرکار جگر کا کینسر ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر پھیلتی بیماری
تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر چار میں سے ایک شخص اس بیماری کا شکار ہے، خاص طور پر وہ افراد جو:
-
زیادہ وزن رکھتے ہیں
-
موٹاپے میں مبتلا ہیں
-
یا میٹابولک سنڈروم جیسے مسائل سے دوچار ہیں
بچاؤ اور احتیاط
فیٹی لیور سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہیں:
-
وزن کو کنٹرول میں رکھنا
-
متوازن غذا کھانا
-
چکنائی اور شکر کا کم استعمال
-
باقاعدگی سے ورزش کرنا
-
الکحل سے پرہیز (اگر کوئی استعمال کرتا ہو)
فیٹی لیور ایک ایسی بیماری ہے جو بظاہر سادہ لگتی ہے لیکن یہ نہ صرف جگر بلکہ پورے جسم کو متاثر کرتی ہے۔ نئی تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ بیماری دیگر مہلک امراض کو جنم دے سکتی ہے، اس لیے وقت پر اس کی تشخیص اور علاج بے حد ضروری ہے۔



